حیدرآباد کی وہ ویران کوٹھی
📌 خلاصہ: حیدرآباد کے پرانے قلعے کے قریب ایک ویران کوٹھی — جہاں ایک بوڑھا جن رہتا تھا۔ وہ خزانہ کسی کو نہیں دیتا تھا — مگر اس رات ایک غریب مزدور نے ایک ایسا کام کیا جو اس جن نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ⏱ پڑھنے کا وقت: ۱۲ منٹ | زمرہ: پراسرار کہانی
حیدرآباد کی وہ ویران کوٹھی — جہاں جن نے خزانہ دکھایا
حیدرآباد — سندھ کی دھرتی پر بسا ہوا پرانا شہر۔ یہاں کی مٹی میں ہزاروں سال کی تاریخ چھپی ہے — فتح دروازہ، ریشمی بازار، پرانا قلعہ۔
قلعے سے تھوڑا ہٹ کر، گنجو ٹکر کے قریب، ایک پرانی کوٹھی کھڑی تھی جو اندر سے خالی اور باہر سے بند تھی۔ اس کے دروازے پر سرسراہٹ رہتی تھی — بغیر ہوا کے۔ اس کی دیواروں سے گرمیوں میں بھی ٹھنڈ آتی تھی۔
مقامی لوگ اسے “گوری کوٹھی” کہتے تھے — کوئی گورا انگریز اس میں رہا ہوگا۔ مگر بزرگوں کا کہنا تھا کہ گورے کے جانے کے بعد ایک اور “ساکن” نے قبضہ کر لیا۔
رحیم بخش — جو بھوکا تھا مگر ایمان نہیں بیچا
رحیم بخش ایک مزدور تھا — تیس سال کا، چھ بچوں کا باپ، حیدرآباد کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہتا تھا۔ کام تھا، مگر تنخواہ کبھی پوری نہیں ہوتی تھی۔
اس رات وہ گنجو ٹکر کے پاس سے گزر رہا تھا — گھر جا رہا تھا — جب کوٹھی کے باہر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ملا۔ سفید ریش، نورانی چہرہ، مگر آنکھیں عجیب تھیں — زیادہ روشن، زیادہ گہری۔
بوڑھے نے کہا: “بیٹا، یہ پرس گلی میں پڑا تھا۔ شاید تمہارا ہو؟”
حیدرآباد کی وہ ویران کوٹھی
رحیم نے پرس دیکھا — اس میں پانچ ہزار روپے تھے۔ اس کی تنخواہ تین ہزار تھی۔
اس نے کہا: “بابا، یہ میرا نہیں ہے۔ کسی اور کا ہوگا — کسی کا نقصان ہوا ہوگا۔ میں محلے میں اعلان کر دیتا ہوں۔”
بوڑھے نے کچھ نہیں کہا۔ بس مسکرایا — اور غائب ہو گیا۔
رحیم نے چاروں طرف دیکھا — کوئی نہیں تھا۔
اگلی رات — کوٹھی میں روشنی
اگلی رات رحیم پھر اسی راستے سے گزرا۔ گوری کوٹھی میں ایک روشنی تھی — اندر سے، پیلی، کمزور۔
دروازہ کھلا تھا۔
رحیم کو معلوم نہیں کہ وہ اندر کیوں گیا — مگر وہ گیا۔ کمرے کے درمیان میں وہی بوڑھا بیٹھا تھا۔ اور اس کے سامنے ایک پرانا صندوق — کھلا ہوا۔
بوڑھے نے کہا: “رحیم۔ کل تم نے کچھ نہیں جانا — نہ میرا نام، نہ میری حقیقت۔ مگر تم نے جو کیا، وہ میں نے پچاس سال میں کسی انسان سے نہیں دیکھا۔”
“آپ کون ہیں؟” رحیم نے پوچھا۔
“میں وہ ہوں جو اس کوٹھی کا محافظ ہوں۔ اس میں ایک خزانہ ہے — ایمانداروں کے لیے۔ تم اہل ہو۔”
صندوق میں پرانے سکے تھے — سونے کے، چاندی کے — اور ایک لفافہ جس پر لکھا تھا: “اس خزانے کا ایک تہائی خیرات میں لگانا۔”
رحیم نے وعدہ کیا۔
بوڑھا پھر غائب ہو گیا — اور رحیم اکیلا صندوق کے سامنے بیٹھا تھا، آنکھوں میں آنسو۔
بعد میں — اور وہ وعدہ جو نبھایا گیا
رحیم بخش نے وہ سکے بیچے — ایک بڑی رقم ملی۔ اس نے پہلے ایک تہائی غریبوں میں بانٹی — محلے کی مسجد بنوائی، ایک غریب بچے کی تعلیم کا انتظام کیا۔
باقی سے اپنا گھر بنایا — چھوٹا مگر پکا۔ بچوں کو اسکول بھیجا۔
آج بھی گوری کوٹھی وہاں کھڑی ہے — حیدرآباد کے اس کونے میں۔ مگر اب اس کا دروازہ کبھی نہیں کھلتا۔
بزرگ کہتے ہیں — “جب خزانہ اپنی جگہ پہنچ جاتا ہے، تو محافظ کا فرض پورا ہو جاتا ہے۔”

کیا آپ نے کبھی ایسا کیا جب آپ بھوکے تھے مگر پھر بھی ایمانداری چھوڑی نہیں؟ کمنٹ میں بتائیں۔