عمومی

لاہور کی وہ حویلی — جہاں جنوں نے پہرہ دیا

لاہور کی وہ حویلی جہاں جنوں نے پہرہ دیا

 


📌 خلاصہ: لاہور کے اندرونِ شہر میں ایک پرانی حویلی ہے جو دہائیوں سے بند پڑی ہے۔ جب سعد اپنے مرحوم دادا کے کاغذات لینے رات کو اس حویلی میں داخل ہوا، تو اسے ایک ایسے جن سے ملاقات ہوئی جو ڈیڑھ سو سال سے اس حویلی کے خزانے کا نگہبان ہے۔ مگر یہ خزانہ سونے چاندی کا نہیں — یہ ایک ایسا راز ہے جو سعد کے خاندان کو ہمیشہ کے لیے جوڑ سکتا تھا یا توڑ سکتا تھا۔ ⏱ پڑھنے کا وقت: ۲۰ منٹ | زمرہ: پراسرار کہانی

لاہور کی وہ حویلی — جہاں جنوں نے پہرہ دیا

سعد نے چابی کو تیسری بار گھمایا۔

لوہے کا پرانا تالہ — زنگ آلود، اکڑا ہوا — جیسے برسوں سے کسی نے ہاتھ نہ لگایا ہو۔ گلی میں اندھیرا تھا۔ مغل کالونی کی یہ تنگ گلی رات کے گیارہ بجے بالکل خالی تھی۔ دور کہیں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی، پھر خاموشی۔

سعد نے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اس کا دل کہہ رہا تھا — جاؤ واپس۔ صبح آنا۔ مگر اس کے ابو نے صبح پانچ بجے کی پرواز سے کراچی جانا تھا۔ پراپرٹی کا مقدمہ اگلے ہفتے تھا۔ کاغذات آج رات چاہیے تھے۔

تالہ آخرکار کھل گیا۔

دروازہ کھلتے ہی ایک بھاری، بند خوشبو نکلی — پرانی لکڑی، مٹی، اور کچھ اور جو سعد نے اس سے پہلے کبھی نہیں سونگھا تھا۔ جیسے وقت کی اپنی خوشبو ہو۔ جیسے کسی نے صدیوں کو بند کمرے میں قید کر دیا ہو اور آج پہلی بار دروازہ کھلا ہو۔

سعد اندر داخل ہوا۔
لاہور کی وہ حویلی جہاں جنوں نے پہرہ دیا

موبائل کی ٹارچ جلائی۔ روشنی میں جو نظر آیا، اس نے سانس روک لی۔

حویلی کا صحن وسیع تھا۔ درمیان میں ایک پرانا کنواں، اب خشک۔ چاروں طرف اونچی دیواریں، جن پر کبھی خوبصورت نقش و نگار ہوئے ہوں گے — ابھی صرف ٹوٹی ٹائلوں اور اُکھڑے پلستر کے نشان تھے۔ اوپر چھت کے بیم لکڑی کے تھے، اور ایک جگہ سے اُکھڑ کر لٹک رہے تھے۔

دائیں طرف سیڑھیاں تھیں۔ کاغذات اوپر والے کمرے میں ہونے چاہیے تھے — دادا نے اپنی زندگی میں ایک بار کہا تھا: “جو اصل کاغذات ہیں، وہ حویلی کے اوپر والے کمرے میں الماری میں بند ہیں۔”

سعد کے قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔

پہلی سیڑھی پر پاؤں رکھا تو چرچراہٹ کی آواز آئی — اتنی تیز کہ خاموش حویلی میں گونج گئی۔ سعد کا دل اچھل گیا۔ اس نے رک کر سانس لی۔

“بس لکڑی پرانی ہے،” اس نے خود سے کہا۔ “بس یہی ہے۔”

دوسری، تیسری، چوتھی — ہر سیڑھی بولتی تھی۔ جیسے گھر خود جانتا ہو کہ کوئی آ رہا ہے، اور اسے خبردار کر رہا ہو۔

اوپر پہنچا۔ لمبا برآمدہ تھا۔ بائیں طرف تین کمرے، سب کے دروازے بند۔ آخری کمرے کا دروازہ تھوڑا کھلا تھا — وہیں سے ہلکی ہوا آ رہی تھی، جیسے کھڑکی کھلی ہو۔

سعد آخری کمرے کی طرف بڑھا۔

وہ کمرہ — جہاں ہوا نہیں تھی، مگر کچھ اور تھا

کمرے میں داخل ہوا تو ٹارچ کی روشنی میں ایک بڑی پرانی الماری نظر آئی — لکڑی کی، شیشم کی، جس پر نقش کاری تھی۔ سیدھے دائیں کونے میں۔ اس کے علاوہ کمرے میں کچھ نہیں تھا — نہ چارپائی، نہ کرسی، نہ کچھ اور۔ بس وہ الماری، اکیلی، پوری عمر کی گرد اوڑھے ہوئے۔

سعد قریب گیا۔ الماری کا دروازہ کھینچا — بند نہیں تھا، آسانی سے کھل گیا۔ اندر پرانے کاغذ تھے، فولڈر میں بند، اور اوپر ایک دھاگے سے بندھی فائل۔

اس نے فائل اٹھائی۔ ٹارچ کی روشنی میں پڑھا — “حویلی مرزا نظام الدین — ۱۸۸۶ ء — ملکیتی دستاویزات۔”

یہی تھے۔ یہی کاغذات تھے جن کے لیے دو گھنٹے کا سفر کیا تھا، پرانی حویلی میں اکیلے رات کو آیا تھا، اور جن کے بغیر ابو کا مقدمہ کمزور پڑ جاتا۔

سعد نے سکون کی سانس لی۔

اور تبھی پیچھے سے آواز آئی۔

“یہ کاغذات تم نہیں لے جا سکتے۔”

سعد ایسے پلٹا جیسے بجلی لگی ہو۔ فائل اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ ٹارچ ہل گئی، روشنی کانپی۔

کمرے کے دروازے کے پاس ایک آدمی کھڑا تھا۔

لاہور کی وہ حویلی جہاں جنوں نے پہرہ دیا

لمبا قد، سفید شلوار قمیض، سر پر سفید ٹوپی۔ چہرے پر گہری سفید داڑھی۔ ہاتھ پیٹھ کے پیچھے باندھے ہوئے۔ آنکھیں — آنکھیں سعد نے کبھی نہیں بھولیں اس کے بعد — گہری، ساکت، جیسے کسی تالاب کی تہہ کو دیکھ رہے ہوں۔

اور وہ — وہ آدھا شفاف تھا۔

ٹارچ کی روشنی اس کے جسم سے گزر رہی تھی۔ پیچھے دیوار صاف نظر آ رہی تھی۔

سعد کے منہ سے آواز نہیں نکلی۔ پاؤں نہیں اٹھے۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز ہوئی کہ کانوں میں سنائی دی۔

“ڈرو نہیں،” وہ بولا۔ آواز پرانی تھی — بہت پرانی، جیسے پتھر پر کندہ الفاظ بولنے لگے ہوں۔ “میں نے تمہیں نقصان نہیں پہنچانا۔ بیٹھو۔”

“آپ — آپ کون ہیں؟” سعد کی آواز خود اسے اجنبی لگی۔

“میں اس حویلی کا نگہبان ہوں۔ ڈیڑھ سو سال سے۔” اس نے کمرے میں ایک نظر ڈالی — جیسے پرانی یادیں ڈھونڈ رہا ہو۔ “بیٹھو — کھڑے کھڑے بات نہیں ہوتی۔”

سعد دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ ٹانگیں اٹھنے کو تیار نہیں تھیں۔

ڈیڑھ سو سال کی کہانی — مرزا نظام الدین کا بوجھ

وہ شفاف آدمی بھی بیٹھ گیا — یا بیٹھنے کی صورت اختیار کی — دروازے کے پاس، فرش پر۔ ہاتھ گھٹنوں پر۔

“تمہارے دادا کا نام کیا تھا؟” اس نے پوچھا۔

“مرزا امجد علی۔”

“اور ان کے ابا؟”

“مرزا کمال الدین۔”

“اور ان کے ابا؟”

سعد کو یاد نہیں تھا۔ اس نے کندھے جھکائے۔

“مرزا نظام الدین،” اس نے خود بتایا۔ “جن کے نام کاغذ پر لکھا ہے۔ وہ اس حویلی کے پہلے مالک تھے۔ انگریزوں کے زمانے میں — لاہور کے مشہور تاجر۔ اناج کا کاروبار تھا ان کا۔”

سعد نے گرد آلود فائل کو دیکھا جو فرش پر پڑی تھی۔

“تم انہیں جانتے ہو؟” اس نے پوچھا — اور سوال کرتے ہی خود حیران ہوا کہ یہ سوال کیسے نکلا۔ ابھی تو وہ مر رہا تھا ڈر سے۔

“جانتا ہوں؟” بوڑھے نے ہلکی سی مسکراہٹ لی — وہ مسکراہٹ بھی عجیب تھی، جیسے درد کو چھپانے کی کوشش ہو۔ “میں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔ میں نے انہیں یہاں سے رخصت کیا تھا جب وہ مرے تھے۔ میں اس وقت سے یہاں ہوں جب لاہور میں گھوڑا گاڑیاں چلتی تھیں اور انگریز حاکم دیل منٹ میں بیٹھتے تھے۔”

کمرے میں ہوا بند تھی۔ باہر سے لاہور کی رات کے شور کی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ جیسے یہ کمرہ کسی اور وقت میں تھا۔

“مرزا نظام الدین نے جاتے جاتے مجھ سے ایک کام کہا تھا،” بوڑھے نے کہا۔ اس کی آواز بھاری تھی — اس بوجھ کی طرح جو لمبے عرصے سے اٹھایا ہو۔ “کہا تھا کہ اس الماری میں ایک راز ہے — جب تک خاندان کا کوئی جوان خود آ کر مجھ سے نہ پوچھے، یہ راز نہیں بتانا۔ اور وہ کاغذات جو ملکیت کے ہیں — وہ بھی تب تک نہیں دینے جب تک وہ راز نہ سمجھ لے۔”

سعد نے گھونٹ نگلی۔

“کیا راز ہے؟”

بوڑھا کچھ دیر خاموش رہا۔ اس خاموشی میں سعد کو حویلی کی دیواریں سانس لیتی محسوس ہوئیں۔

“مرزا نظام الدین کے دو بیٹے تھے۔ بڑا — شرافت علی — سیدھا، ایمانداری کا۔ چھوٹا — ہلال علی — ذہین، مگر لالچی۔ جب مرزا مرا تو اس نے وصیت لکھی تھی — حویلی برابر تقسیم ہوگی۔ مگر ہلال نے وصیت چھپا دی۔ الگ کاغذ بنوائے جن میں لکھا کہ پوری حویلی صرف اس کی ہے۔ شرافت علی کو نکال دیا۔”

سعد کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“شرافت علی — وہ تمہارے اصل پردادا کے پردادا تھے۔ ہلال علی — وہ اس خاندان کے پردادا تھے جو ابھی تمہارے خلاف مقدمہ لڑ رہا ہے۔”

سعد کے منہ سے نکلا — “کیا؟”

“اور اصل وصیت — وہ اس الماری کی تہہ میں ہے۔ تمہارے پردادا کے پردادا کو کبھی معلوم نہیں ہوا۔ مرزا نے مجھ سے کہا تھا — جب میرے خون کا کوئی جوان آئے، اسے بتانا۔ مگر کوئی آیا نہیں۔ تم پہلے آئے ہو۔ آج رات — ڈیڑھ سو سال بعد۔”

سعد کی آنکھیں بھر آئیں — مگر اسے خود سمجھ نہیں آیا کیوں۔ شاید ڈر تھا، شاید کچھ اور۔

الماری کی تہہ — اور وہ کاغذ جو ڈیڑھ سو سال سے انتظار میں تھا

بوڑھے نے اشارہ کیا — الماری کی طرف۔

“نیچے — تختہ ہے۔ اٹھاؤ۔”

سعد اٹھا۔ گھٹنے کانپ رہے تھے۔ الماری کے پاس گیا، اندر جھکا۔ نیچے کا تختہ ہاتھ سے دبایا — ہلکا تھا، ایک طرف سے۔ اٹھایا تو اندر ایک خانہ تھا — چھوٹا، مگر گہرا۔ اس میں ایک پوٹلی تھی — کپڑے کی، پرانے زرد کپڑے میں بندھی۔

سعد کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے اسے اٹھایا۔ پوٹلی کھولی — اندر ایک مڑا تڑا کاغذ تھا۔ فارسی رسم الخط۔ اوپر مہر لگی تھی — سرخ، دھندلی، مگر موجود۔

“میں فارسی نہیں پڑھ سکتا۔”

“میں جانتا تھا کہ نہیں پڑھ سکتے،” بوڑھے نے کہا۔ “اس لیے مرزا نے ایک الگ خط بھی لکھا تھا — اردو میں۔ وہ بھی اسی میں ہے۔”

سعد نے پوٹلی میں ہاتھ ڈالا — ایک اور کاغذ تھا۔ اردو میں لکھا ہوا، پرانے انداز میں مگر پڑھنے کے قابل۔

اس نے ٹارچ قریب کی اور پڑھنا شروع کیا:

“یہ تحریر میں مرزا نظام الدین نے اپنے دونوں بیٹوں کے لیے لکھی ہے۔ میری وصیت ہے کہ میری حویلی برابر دو حصوں میں تقسیم ہو — ایک شرافت علی کو، ایک ہلال علی کو۔ جو اس تقسیم کو نہ مانے، وہ میرا بیٹا نہیں۔ اور جو میرے خون میں سے آئے اور اس تحریر کو پائے — وہ جانے کہ ناانصافی ہمیشہ نہیں رہتی۔ خدا دیر کرتا ہے، اندھیر نہیں کرتا۔”

سعد نے کاغذ نیچے کر لیا۔

آنکھیں بھری ہوئی تھیں — کیوں، وہ ابھی بھی نہیں جانتا تھا۔ شاید اس لیے کہ ایک مرا ہوا انسان اس سے بات کر رہا تھا — نہیں، وہ خط کے ذریعے بات کر رہا تھا۔ ڈیڑھ سو سال پار کر کے۔

“اب کاغذات لے جا سکتا ہوں؟” اس نے بوڑھے کی طرف دیکھا۔

“ہاں،” بوڑھے نے کہا۔ “اب تم نے سنا۔ اب تم جانتے ہو۔ اب لے جا سکتے ہو۔”

سعد نے دونوں فائلیں اٹھائیں — وہ پرانی جو ملکیت کی تھی، اور وہ نئی جو اصل وصیت تھی۔ اٹھ کر کھڑا ہوا۔

“آپ — کیا آپ ہمیشہ یہاں رہیں گے؟” اس نے پوچھا۔

بوڑھے نے ایک لمبی سانس لی۔ وہ سانس کمرے میں پھیل گئی جیسے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا۔

“نہیں۔ میرا کام پورا ہوا۔ تم آئے، سنا، لے گئے۔ مرزا کی امانت ادا ہو گئی۔” اس نے آنکھیں بند کیں۔ “اب نہیں رہوں گا یہاں۔”

سعد اس کا چہرہ دیکھتا رہا — وہ چہرہ جس میں تھکاوٹ تھی، گہری تھکاوٹ، جو ڈیڑھ سو سال کے انتظار کی تھکاوٹ تھی۔

“جزاک اللہ،” سعد نے آہستہ سے کہا — نہ جانتا تھا کیوں کہا، بس نکل گیا۔

جب اس نے پھر نظر اٹھائی، بوڑھا نہیں تھا۔

کمرہ خالی تھا۔

صرف وہ ٹارچ کی روشنی تھی، پرانی الماری تھی، اور اس کے ہاتھ میں دو فائلیں تھیں۔

سیڑھیاں اترنا — اور لاہور کی رات میں واپسی

سعد سیڑھیاں اترا — آہستہ آہستہ۔ اس بار چرچراہٹ نہیں آئی۔ جیسے گھر نے رخصت کی اجازت دے دی ہو۔

صحن میں آیا۔ کنواں وہیں تھا، خشک، خاموش۔ سعد نے ایک لمحے کے لیے رکا۔

اسے یاد آیا — بچپن میں دادا نے ایک بار بہت مبہم سی بات کہی تھی: “سعد، کبھی کبھی گھر کی زمین میں وہ دفن ہوتا ہے جو کتابوں میں نہیں ملتا۔” اس وقت سعد نے سوچا تھا — شاید خزانے کی بات کر رہے ہیں۔

اب سمجھ آیا۔

دادا نے شاید جانا تھا — یا کسی نے ان تک کوئی بات پہنچائی تھی — کہ حویلی میں کچھ ہے۔ مگر خود نہیں آئے۔ ڈر لگا ہوگا، یا وقت نہیں ملا، یا سمجھے نہیں۔

سعد نے دروازہ کھول کر باہر قدم رکھا۔

لاہور کی رات اس کے سامنے تھی — موٹرسائیکلوں کی آوازیں، دور مسجد سے اذان کا آخری حصہ، گلی کے نکڑ پر دھندلی ٹیوب لائٹ۔

اس نے پیچھے مڑ کر حویلی کو ایک بار دیکھا۔

اوپر والے کمرے کی کھڑکی میں کچھ نہیں تھا — بس اندھیرا۔ کوئی روشنی نہیں، کوئی سایہ نہیں۔

مگر سعد کو محسوس ہوا — جیسے کوئی دیکھ رہا ہو۔ آخری بار۔

اس نے ہاتھ اٹھا کر سلام کیا — خالی کھڑکی کو۔

پھر پلٹا اور چلتا چلا گیا۔

اگلی صبح — وکیل کا حیران چہرہ

صبح چار بجے سعد گھر پہنچا۔ ابو جاگ رہے تھے — کراچی کی پرواز کی تیاری میں۔ سعد نے دونوں فائلیں ان کے ہاتھ میں رکھیں۔

“یہ ملکیت کے کاغذات،” اس نے کہا، “اور یہ — یہ اصل وصیت ہے۔ مرزا نظام الدین کی۔ اس میں لکھا ہے کہ حویلی دونوں بیٹوں میں برابر تقسیم ہو۔ جو مقدمہ لڑ رہے ہیں وہ ہلال کی اولاد ہے جس نے یہ وصیت چھپائی تھی۔”

ابو نے فائل کھولی، پڑھا، پھر دوبارہ پڑھا۔

“یہ کہاں سے آئی؟” ان کی آواز کانپ رہی تھی۔

“الماری میں تھی — نیچے ایک خفیہ خانے میں۔”

“تمہیں کیسے پتا چلا کہ وہاں ہے؟”

سعد نے ایک لمحے کے لیے رکا۔

“کسی نے بتایا،” اس نے آہستہ سے کہا۔

ابو نے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھا — اور کچھ پوچھا نہیں۔ شاید کچھ باتیں پوچھنے کی نہیں ہوتیں۔

وکیل نے اگلے دن جب وصیت دیکھی تو کہا — یہ مستند ہے، مہر اور گواہوں کے دستخط موجود ہیں۔ عدالت میں پیش کر دیں تو مقدمہ یہیں ختم ہو جائے گا۔

تین ہفتے بعد مقدمہ ختم ہو گیا۔

حویلی کا آدھا حصہ سعد کے خاندان کو ملا — جو پہلے کبھی ملنا چاہیے تھا۔

اور دوسرا آدھا — ہلال کی اولاد کو۔

مرزا نظام الدین کی وصیت — ڈیڑھ سو سال بعد — پوری ہوئی۔

وہ رات — اور سعد کا اکیلا راز

سعد نے کبھی کسی کو پوری بات نہیں بتائی۔

دوستوں کو نہیں، ابو کو نہیں، اپنی بیوی کو بھی نہیں جب شادی ہوئی۔

کبھی کبھی رات کو وہ سوچتا ہے — وہ بوڑھا کہاں گیا ہوگا؟ ڈیڑھ سو سال کی قید کے بعد آزاد ہوا — کیسا لگا ہوگا اسے؟

اور مرزا نظام الدین — وہ بوڑھا تاجر جو انگریزوں کے زمانے میں لاہور میں گھوڑا گاڑی پر چلتا تھا — کیا اسے کہیں خبر ہوئی ہوگی کہ اس کی بات آخرکار سنی گئی؟

ایک دفعہ سعد اندرون لاہور سے گزرا — کاروبار کے سلسلے میں۔ وہی گلی آئی، وہی حویلی۔

رک گیا۔

حویلی کا دروازہ کھلا تھا — مزدور کام کر رہے تھے اندر۔ مرمت ہو رہی تھی۔

اس نے اوپر والی کھڑکی کی طرف دیکھا۔

خالی تھی۔ بس خالی کھڑکی، دھوپ میں۔

سعد مسکرایا۔

پھر گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا۔

مگر دل میں ایک جملہ گونجتا رہا — وہ جملہ جو اس بوڑھے نے کہا تھا، اس رات، اس کمرے میں:

“خدا دیر کرتا ہے، اندھیر نہیں کرتا۔”

کیا آپ کے خاندان میں بھی کوئی ایسی پرانی بات ہے جو وقت کے ساتھ سچ ثابت ہوئی؟ یا کوئی ایسی جگہ جہاں کچھ عجیب ہوا ہو؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں