وہ خط جو کبھی نہیں پہنچا
رمضان کی ستائیسویں رات تھی۔
لاہور کی گلیاں سنسان ہو چکی تھیں۔ مسجدوں سے تراویح کی آوازیں دور تک جاتی تھیں، اور آسمان پر ایک ٹوٹا ہوا تارہ گزرا — جیسے کوئی دعا ادھوری رہ گئی ہو۔
ثمرہ نے اپنی الماری کی سب سے اوپری دراز کھولی۔
وہاں ایک پرانا لفافہ رکھا تھا — پیلا پڑ چکا تھا، کناروں سے گھِسا ہوا، لیکن بند۔ بالکل بند۔ جیسے کوئی راز ہو جو سانس روک کر بیٹھا ہو۔
یہ خط اس نے پندرہ سال پہلے لکھا تھا۔
وہ خط جو کبھی نہیں پہنچا
اور کبھی بھیجا نہیں تھا۔
پہلا حصہ — وہ لڑکی جو ہمیشہ دیر سے روتی تھی
ثمرہ کی عمر اس وقت بائیس سال تھی جب اس کے ابو گئے۔
گئے — یہ لفظ اس نے خود ایجاد کیا تھا۔ “فوت ہو گئے”، “انتقال ہو گیا”، “اللہ کو پیارے ہو گئے” — یہ الفاظ وہ نہیں کہہ سکتی تھی۔ ان الفاظ میں کوئی واپسی نہیں تھی۔ “گئے” میں کم از کم ایک امید تھی — جیسے بازار گئے ہوں، اور آ جائیں گے۔
اس رات جنازہ اٹھا تو پورا محلہ آیا تھا۔ عورتیں دیواروں کے ساتھ لگ کر روتی رہیں۔ پڑوسی کھانا لاتے رہے۔ کسی نے ثمرہ کو گلے لگایا، کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
لیکن ثمرہ نہیں روئی۔
اس کی آنکھیں خشک تھیں، ہاتھ ٹھنڈے تھے، اور وہ بس دروازے پر کھڑی رہی — جیسے کوئی غلطی سے غلط گھر آ گئی ہو اور راستہ ڈھونڈ رہی ہو۔
اس کی پھوپھی نے کہا — “بے حس لڑکی ہے، ابو کے لیے ایک آنسو نہیں۔”
ثمرہ نے سنا۔ کچھ نہیں بولی۔
تین دن بعد، آدھی رات کو، جب گھر خاموش تھا، وہ ابو کی پرانی چارپائی پر بیٹھی اور اتنا روئی کہ صبح تک تکیہ گیلا رہا۔
وہ ہمیشہ دیر سے روتی تھی۔
جب سب دیکھ رہے ہوتے، وہ پتھر ہو جاتی تھی۔ جب اکیلی ہوتی، تب ٹوٹتی تھی۔

دوسرا حصہ — وہ خط
ابو کے جانے کے ایک ہفتے بعد ثمرہ نے ایک خط لکھا۔
کوئی پتا نہیں تھا اوپر لکھنے کے لیے۔ کوئی شہر نہیں، کوئی گلی نہیں۔ لیکن اس نے لکھا۔
“ابو،
آپ نے ایک بار کہا تھا کہ جو بات زبان سے نہ نکلے، وہ کاغذ پر لکھ دو۔ تو میں لکھ رہی ہوں۔
آپ گئے اور میں نہیں روئی۔ لوگ کہتے ہیں میں بے حس ہوں۔ لیکن ابو، سچ یہ ہے کہ میں روئی نہیں کیونکہ اگر ایک بار شروع ہو جاتی تو رک نہیں سکتی تھی۔ اور مجھے امی کے لیے مضبوط رہنا تھا۔ چھوٹی بہن کے لیے رہنا تھا۔
لیکن رات کو جب سب سو جاتے ہیں — تب میں ٹوٹ جاتی ہوں۔
آپ کو یاد ہے، جب میں دسویں میں فیل ہوئی تھی؟ سب نے کہا تھا کہ یہ لڑکی کچھ نہیں کر سکتی۔ اور آپ نے کہا تھا — ‘ثمرہ، ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا کھلتا ہے، بس اتنا خیال رکھو کہ دیوار سے نہ ٹکراؤ۔’
ابو، میں ابھی دیوار کے سامنے کھڑی ہوں۔ اور آپ نہیں ہیں کہ بتائیں کہ دروازہ کدھر ہے۔
آپ کی ثمرہ”
اس نے خط بند کیا۔ لفافے میں ڈالا۔
اور الماری کی اوپری دراز میں رکھ دیا۔

تیسرا حصہ — پندرہ سال
زندگی رکتی نہیں۔
ثمرہ نے یونیورسٹی کی۔ نوکری کی۔ شادی ہوئی — ایک سادہ، خاموش آدمی سے جو اسے سمجھتا تھا بغیر زیادہ پوچھے۔ ایک بیٹا ہوا — سعد۔
گھر بدلا، شہر نہیں بدلا۔ لاہور ہی رہی۔
لیکن وہ الماری ہر جگہ اس کے ساتھ گئی۔ شادی سے پہلے، اس کے میکے کی الماری میں۔ شادی کے بعد، نئے گھر کی الماری میں۔ اوپری دراز میں، وہی پیلا لفافہ۔
کبھی کبھی وہ دراز کھولتی۔ لفافے کو ہاتھ لگاتی۔ پھر بند کر دیتی۔
پڑھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

چوتھا حصہ — سعد
سعد بارہ سال کا تھا جب اس نے پہلی بار وہ لفافہ دیکھا۔
ثمرہ کمرے میں نہیں تھی۔ سعد کسی کھلونے کی تلاش میں الماری کھول رہا تھا۔ اوپری دراز کھلی — اور وہ پیلا لفافہ باہر گر پڑا۔
اس نے اٹھایا۔ پلٹ کر دیکھا۔ اوپر کچھ نہیں لکھا تھا۔
بچہ تھا — تجسس فطری تھا۔
اس نے کھولنے کی کوشش کی۔
تبھی ثمرہ آ گئی۔
وہ دروازے پر رک گئی۔ سعد کے ہاتھ میں لفافہ دیکھا۔ دو سیکنڈ خاموش رہی — پھر آہستہ سے بولی:
“سعد، یہ رکھ دو۔”
سعد نے فوراً رکھ دیا۔ ماں کی آواز میں کچھ تھا — وہ سمجھ نہیں سکتا تھا کیا، لیکن چپ ہو گیا۔
رات کو کھانے کے بعد اس نے پوچھا — “امی، وہ لفافے میں کیا تھا؟”
ثمرہ کچھ دیر چپ رہی۔
پھر بولی — “ایک خط۔”
“کسے لکھا تھا؟”
“نانا کو۔”
سعد کی آنکھیں چوڑی ہو گئیں — “وہ نانا جو میرے پیدا ہونے سے پہلے۔۔۔؟”
“ہاں۔”
“تو بھیجا کیوں نہیں؟”
ثمرہ نے اس کی طرف دیکھا۔ بارہ سال کا بچہ، معصوم آنکھیں، اور ایک سوال جو پندرہ سال سے اس کے اندر بھی موجود تھا۔
“پتا نہیں تھا۔” اس نے کہا۔ “جہاں وہ گئے تھے، وہاں کا پتا نہیں معلوم۔”
سعد نے سوچا۔ پھر بولا — “امی، آسمان کا پتا سب کو معلوم ہوتا ہے۔ وہاں بھیج دیتیں۔”
ثمرہ مسکرائی — وہ مسکراہٹ جس میں آنسو چھپے ہوتے ہیں۔
پانچواں حصہ — رمضان کی وہ رات
پندرہ سال بعد، رمضان کی ستائیسویں رات۔
ثمرہ نے الماری کھولی۔ لفافہ نکالا۔
اس بار اس نے کھولا۔
کاغذ پیلا پڑ گیا تھا، لیکن لکھائی ابھی بھی صاف تھی — وہی پرانی لکھائی، جلدی جلدی لکھی ہوئی، جیسے ہاتھ کانپ رہا ہو۔
اس نے پڑھا۔
پہلی لائن پڑھی تو ہونٹ کانپے۔
“آپ نے ایک بار کہا تھا کہ جو بات زبان سے نہ نکلے، وہ کاغذ پر لکھ دو۔”
ابو کی آواز کانوں میں گونجی — وہی آواز، پندرہ سال پرانی، جیسے وہ کمرے میں ہی کہیں بیٹھے ہوں۔
ثمرہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
اس نے پڑھنا جاری رکھا۔
جب آخری سطر پر پہنچی — “آپ کی ثمرہ” — تو وہ رو پڑی۔
پندرہ سال بعد۔
لیکن اس بار کوئی تکیہ نہیں تھا گیلا ہونے کے لیے۔ اس بار وہ کمرے کے بیچ فرش پر بیٹھ گئی، خط سینے سے لگا کر، اور روتی رہی۔
سعد باہر سویا ہوا تھا۔ شوہر نے ایک بار دروازے پر ہلکے سے دستک دی — ثمرہ نے کہا “ٹھیک ہوں” — اور وہ واپس چلا گیا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا — کچھ رونے اکیلے ہی رویا جاتا ہے۔
چھٹا حصہ — وہ جو ادھورا رہ گیا
ثمرہ نے خط دوبارہ پڑھا۔ تیسری بار۔ چوتھی بار۔
پھر اس نے ایک نیا کاغذ نکالا۔
اور لکھنا شروع کیا۔
“ابو،
پندرہ سال پہلے میں نے آپ کو ایک خط لکھا تھا جو بھیج نہیں سکی۔ آج بھیج رہی ہوں۔ پتا وہی ہے جو سعد نے بتایا تھا — آسمان۔
آپ نے پوچھا ہوگا کہ دیر کیوں کی؟ ابو، ڈر تھا۔ اگر لکھتی، تو ماننا پڑتا کہ آپ سچ میں گئے ہیں۔ اور میں مانتی نہیں تھی۔
لیکن آج سعد نے ابو کا رول پلے کرتے ہوئے مجھ سے کہا — ‘امی، تم بہت مضبوط ہو۔’ ٹھیک وہی لہجے میں جو آپ کا تھا۔
اور مجھے سمجھ آیا — آپ گئے نہیں ابو۔ آپ اس کے اندر ہیں۔ اس کی آواز میں، اس کی آنکھوں میں، اس کے اس عجیب عادت میں کہ چائے بناتے وقت گنگناتا ہے — بالکل آپ کی طرح۔
تو خط دیر سے سہی، لیکن آپ تک پہنچے گا۔
میں جانتی ہوں۔
آپ کی ثمرہ”

ساتواں حصہ — صبح
فجر کی اذان ہوئی۔
ثمرہ اٹھی، وضو کیا، نماز پڑھی۔
سجدے میں بہت دیر رہی۔
کوئی دعا نہیں مانگی — بس خاموش بیٹھی رہی۔ کبھی کبھی خاموشی ہی سب سے بڑی دعا ہوتی ہے۔
نماز کے بعد وہ باہر چھت پر گئی۔
لاہور ابھی جاگ رہا تھا — دور کہیں سبزی والے کی آواز، قریب سے کسی گھر میں برتنوں کی کھنکھناہٹ، آسمان پر آخری تارے ڈوب رہے تھے۔
سعد باہر آیا — آنکھیں سوجی ہوئی، بال بکھرے ہوئے۔
“امی، آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟”
“تاروں کو دیکھ رہی تھی۔”
سعد نے بھی اوپر دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے دونوں خاموش رہے۔
پھر سعد بولا — “امی، کیا نانا ابو بھی ان تاروں میں سے کوئی ہیں؟”
ثمرہ نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“نہیں بیٹا۔ نانا ابو کہیں اور ہیں۔ لیکن تمہاری آواز میں ہیں۔ تمہاری ہنسی میں ہیں۔ اور اب مجھے یقین ہے — وہ خط پڑھ چکے ہیں۔”
سعد سمجھا نہیں۔ لیکن اس نے امی کا ہاتھ تھام لیا۔
اور وہ دونوں چھت پر کھڑے رہے — جب تک سورج نہ نکل آیا۔
آخری بات
زندگی میں کچھ خط لکھے جاتے ہیں جو بھیجے نہیں جاتے۔
کچھ باتیں کہی جاتی ہیں جو سنی نہیں جاتیں۔
کچھ رونے رویا نہیں جاتا — بس سینے میں دب جاتا ہے، مہینوں، سالوں، برسوں کے لیے۔
لیکن ابو کہتے تھے — “جو بات زبان سے نہ نکلے، وہ کاغذ پر لکھ دو۔”
شاید اسی لیے ثمرہ نے لکھا تھا۔
اور شاید اسی لیے آج آپ یہ پڑھ رہے ہیں — اپنے کسی ادھورے خط کو یاد کرتے ہوئے۔

اگر آپ کے دل میں بھی کوئی ایسا خط ہے — لکھ دیجیے۔ چاہے بھیجیں یا نہ بھیجیں۔
لکھنے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے


