کوئٹہ کی پہاڑی حویلی
📌 خلاصہ: کوئٹہ کے قریب ایک پہاڑی حویلی — انگریز دور کی — جہاں بلوچستان کے خزانے کا سب سے پرانا ذخیرہ چھپا ہوا تھا۔ ایک بوڑھا جن پہاڑ کی روح کی طرح اس خزانے کا محافظ تھا۔ ایک نوجوان ڈاکٹر کی وہ رات جس نے اسے انسانی فطرت کے بارے میں سب سے بڑا سبق دیا۔ ⏱ پڑھنے کا وقت: ۱۲ منٹ | زمرہ: پراسرار کہانی
کوئٹہ کی پہاڑی حویلی — جہاں پہاڑ کی روح نے روکا
کوئٹہ — پہاڑوں کا شہر۔ یہاں کی ہوا سرد اور پتھر گرم ہوتے ہیں۔ بلوچستان کی وسیع پہاڑی سلسلوں میں صدیوں کی تاریخ دفن ہے۔
شہر سے بیس کلومیٹر باہر، مرغاب کے قریب، ایک پہاڑی چوٹی پر انگریز دور کی ایک حویلی تھی — اسے “کلا آف ڈیوک” کہتے تھے۔ بعد میں انگریز چلے گئے مگر حویلی رہی — اور اس میں جو رہتا تھا وہ انگریزوں سے پہلے سے تھا۔
بلوچ بزرگ اسے “شپ” کہتے تھے — پہاڑ کی روح۔

کوئٹہ کی پہاڑی حویلی
ڈاکٹر ظفر — جو کوئٹہ آیا تھا مریضوں کو دیکھنے
ڈاکٹر ظفر لاہور کا نوجوان ڈاکٹر تھا — بتیس سال کا، NGO کے ساتھ کوئٹہ آیا تھا دیہی علاقوں میں طبی خدمات کے لیے۔ ایک شام وہ مرغاب سے واپس آ رہا تھا — راستہ بھول گیا — اور پہاڑی پر وہ حویلی نظر آئی۔
اندر گیا — پناہ لینے کے لیے، رات تھی اور سرما سخت تھا۔

حویلی کے اندر — اور بلوچی زبان میں آواز
ڈاکٹر ظفر نے اندر قدم رکھا — پرانا فرنیچر، ٹوٹی کھڑکیاں، ٹھنڈ۔ کونے میں بیٹھ گیا۔
آدھی رات ہوئی — پھر پتھر کی دیوار سے آواز آئی، بلوچی میں:
“تو ڈاکٹر ہے؟ لوگوں کو ٹھیک کرتا ہے؟”
ڈاکٹر ظفر نے بلوچی نہیں سیکھی تھی — مگر سمجھ آئی۔ “ہاں۔”
“اس پہاڑ میں ایک خزانہ ہے۔ اگر تو لے جائے — میں نہیں روکوں گا۔ مگر ایک شرط ہے — کل صبح پہلے اس گاؤں کے پانچ بیمار بچوں کو دیکھنا ہے۔”
ڈاکٹر ظفر کی آنکھیں چڑھ گئیں — یہ کون تھا جو بچوں کا نام لے رہا تھا؟
“کون ہو تم؟”
“میں اس پہاڑ کا ہوں۔ یہاں کے لوگوں کا ہوں۔ خزانہ میرے پاس ہے — مگر اس سے پہلے انسانیت دکھاؤ۔”

صبح — اور وہ بچے جو ڈاکٹر کی راہ دیکھ رہے تھے
صبح ڈاکٹر ظفر قریبی گاؤں گیا — اور واقعی پانچ بچے بیمار تھے۔ نمونیا، ڈیہائیڈریشن — علاج ممکن تھا مگر کوئی ڈاکٹر نہیں تھا۔
اس نے پورا دن وہیں گزارا — بچوں کا علاج کیا، دوائیں دیں، ماؤں کو سمجھایا۔
شام کو واپس حویلی پہنچا — اور دیکھا کہ حویلی کے درمیان میں ایک پرانا صندوق تھا — کھلا ہوا، سونے کے سکوں سے بھرا۔
آواز آئی: “لے جا۔ تو نے پہلے انسانیت دکھائی — پھر خزانہ ملا۔”
ڈاکٹر ظفر نے صندوق دیکھا — پھر کہا:
“اس خزانے سے اس گاؤں میں ہسپتال بنوا دو — مجھے صرف وہاں کام کرنے کا موقع چاہیے۔”
خاموشی — پھر ایک گہری آواز:
“یہی وہ جواب تھا جس کا میں سالوں سے انتظار کر رہا تھا۔”
اگلے سال، مرغاب کے اس گاؤں میں ایک چھوٹا ہسپتال بنا — ڈاکٹر ظفر نے بنوایا۔ کسی نے نہیں پوچھا پیسہ کہاں سے آیا۔
کیا آپ خزانہ ملنے پر پہلے خود لیتے یا دوسروں کے لیے استعمال کرتے؟ کمنٹ میں بتائیں۔