پراسرار کہانیاں

گوجرانوالہ کی وہ پرانی کوٹھی — جہاں خاندانی جن تین نسلوں سے تھا

گوجرانوالہ کی وہ پرانی کوٹھی



📌 خلاصہ: گوجرانوالہ کے پرانے محلے میں ایک بڑی کوٹھی جو تین نسلوں سے ایک خاندان کے پاس تھی — اور جس میں ایک خاندانی جن رہتا تھا جو انہی کا محافظ تھا۔ جب گھر فروخت ہوا تو اس رات جو ہوا وہ پورے خاندان نے دیکھا اور آج بھی یاد کرتا ہے۔ ⏱ پڑھنے کا وقت: ۱۴ منٹ | زمرہ: پراسرار کہانی

گوجرانوالہ کی وہ پرانی کوٹھی — جہاں خاندانی جن تین نسلوں سے تھا

گوجرانوالہ — پہلوانوں کا شہر، اکھاڑوں کا شہر، اور ان گلیوں کا شہر جہاں پرانے گھر آج بھی اپنی تاریخ لیے کھڑے ہیں۔

شیرانوالہ باغ کے قریب ایک محلے میں ایک بڑی کوٹھی تھی — “چوہدریوں کی کوٹھی” — جو 1920 کی دہائی میں بنی تھی۔ لمبے کمرے، بڑا صحن، اوپر چھت کا کمرہ جسے “بالا خانہ” کہتے تھے — اور اس بالا خانے میں ایک کمرہ جو ہمیشہ بند رہتا تھا۔

خاندان کے بزرگ کہتے تھے — “یہ کمرہ ہمارے ‘ساتھی’ کا ہے۔ اسے کبھی نہ کھولنا — اور اس کا احترام کرنا۔”

گوجرانوالہ کی وہ پرانی کوٹھی


تین نسلیں اس کوٹھی میں پیدا ہوئیں، جوان ہوئیں، بوڑھی ہوئیں — اور ہر نسل نے یہی بات سنی۔ اور ہر نسل نے یہی محسوس کیا — کہ گھر میں ایک عجیب حفاظت ہے۔ کبھی کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا، کبھی کوئی بڑی بیماری نہیں آئی، کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔




جب گھر بیچنے کا فیصلہ ہوا

تیسری نسل میں چوہدری عمر آیا — پینتیس سال کا، لاہور میں کاروبار والا، گوجرانوالہ میں رہنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا — کوٹھی بیچو، لاہور میں فلیٹ لو۔

اس کی ماں نے روکا: “بیٹا، یہ کوٹھی نہ بیچنا۔ یہاں ہمارا ‘ساتھی’ ہے۔”

عمر نے کہا — “امی، یہ پرانی باتیں ہیں۔ آج کے زمانے میں جن وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔”

کوٹھی بک گئی۔ قبضہ دینے سے ایک رات پہلے پورا خاندان آخری بار اکٹھا ہوا — ماں، عمر، اس کی بہنیں، بچے۔

وہ آخری رات — جب “ساتھی” نے رخصتی دی

رات کے گیارہ بجے — سب سو رہے تھے — بالا خانے کا بند کمرہ خود بخود کھل گیا۔

ایک گرم ہوا کا جھونکا — پورے گھر میں — جیسے دسمبر کی رات میں اچانک گرمی آ گئی ہو۔

سب کی آنکھ کھل گئی — کسی نے بھی بتایا نہیں — سب بیک وقت اٹھے۔

صحن میں آئے — آسمان صاف تھا — مگر صحن کے درمیان میں ایک نور تھا — پیلا، گرم، مدھم۔ وہاں کوئی نہیں تھا مگر سب نے محسوس کیا — ایک موجودگی۔

عمر کی ماں کے آنسو نکل آئے۔

پھر ایک آواز آئی — بہت آہستہ، جیسے ہوا میں گھلی ہو:

“تین نسلوں کی حفاظت کی — اب جاتے ہو تو جاؤ۔ مگر یاد رکھنا — جہاں بھی جاؤ، سلامت رہو۔ اللہ کی پناہ میں رہو۔”

نور آہستہ آہستہ بجھا۔

اور بالا خانے کا کمرہ — جو ہمیشہ بند رہتا تھا — وہ اب کھلا تھا — خالی — صرف ایک پرانی تسبیح رکھی تھی اس میں، جو شاید صدیوں پرانی تھی۔

اگلے دن — اور وہ احساس جو کبھی نہیں گیا

اگلے دن نئے مالک نے قبضہ لیا۔ عمر نے وہ تسبیح اٹھائی اور رکھ لی۔

لاہور میں نئے فلیٹ میں آئے — پہلے سال میں تین حادثے، ایک نقصان، اور ایک بیماری۔

عمر کی ماں نے کہا — “دیکھا؟ ساتھی نہیں رہا۔”

عمر نے جواب نہیں دیا۔ مگر اس تسبیح کو گھر میں سب سے اونچی جگہ رکھ دیا — اور صبح شام اسے ہاتھ لگاتا ہے۔

گوجرانوالہ کی وہ کوٹھی آج بھی وہاں ہے — اب کوئی اور خاندان رہتا ہے اس میں۔ بالا خانے کا وہ کمرہ؟ نئے مالک نے بتایا — “وہ کمرہ ہم کبھی استعمال نہیں کرتے۔ اندر سے بند کر دیا ہے — کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے وہاں جو ہم سمجھ نہیں سکتے۔”

شاید — وہ ابھی بھی وہاں ہے۔ نئے مالکوں کی حفاظت کرتا ہوا۔

گوجرانوالہ کی وہ پرانی کوٹھی

کیا آپ کے خاندان میں بھی کوئی ایسی پرانی جگہ ہے جس کے بارے میں بزرگ عجیب باتیں کرتے تھے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

TaleMingle Team

TaleMingle ایک اردو ادبی پلیٹ فارم ہے جہاں ہم آپ کے لیے دل کو چھو لینے والی، مزاحیہ اور سبق آموز کہانیاں لاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں