📌 خلاصہ: ملتان کے قدیم شہر میں ایک ایسی حویلی جہاں ایک جادوگر نے ایک صدی پہلے جنات کو ایک تانبے کے صندوق میں قید کیا تھا۔ ایک نوجوان کی وہ رات جب اس نے وہ مہر توڑی — اور جو طوفان آیا، اس نے پوری گلی کو ہلا کر رکھ دیا۔ ⏱ پڑھنے کا وقت: ۱۴ منٹ | زمرہ: پراسرار کہانی
ملتان کی حویلی کا جادوگر — جو سو سال سے قید تھا
ملتان — اولیاء کا شہر۔ جہاں گرمی بھی برکت لگتی ہے اور مٹی میں بھی روحانیت ہے۔
مگر اس شہر کے پرانے حصے میں — حرم دروازے کے قریب — ایک گلی ایسی ہے جسے “گلی میاں عزیز” کہتے ہیں۔ اس گلی میں ایک حویلی کھڑی ہے جو سو سال سے بند ہے۔ دیواریں گہری نیلی ٹائلوں سے سجی — ملتانی طرز کی — مگر ٹائلوں کے بیچ بیچ میں چھوٹے چھوٹے نشان ہیں جو کوئی نہیں پڑھ سکتا۔
بزرگ کہتے ہیں — یہ نشان حفاظتی مہریں ہیں۔ انہیں ایک جادوگر نے لگایا تھا — میاں جمال الدین — جو ڈیڑھ سو سال پہلے اس حویلی میں رہتا تھا۔ اور جس نے اپنی موت سے پہلے کچھ ایسا کیا جو آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا۔
محلے میں یہ کہاوت تھی — “میاں جمال نے انہیں باندھا ہوا ہے۔ جب تک مہر ہے، وہ اندر ہیں۔”
اسد — جو ملتان آیا تھا ورثہ سنبھالنے
اسد ملتان میں پیدا ہوا تھا مگر بچپن سے لاہور میں پلا تھا۔ پچیس سال بعد واپس آیا — دادا کی وراثت میں حویلی ملی تھی۔
وکیل نے کاغذ دیتے ہوئے کہا: “حویلی آپ کی ہے، مگر خاندان کا ایک اصول ہے — اندر کا بند کمرہ کبھی نہ کھولنا۔”
اسد نے ہنسی اڑائی — “کیا فلم ہے؟”
وکیل نے سنجیدگی سے کہا: “آپ کے دادا کے دادا نے یہ بات لکھ چھوڑی ہے — اور آپ کے دادا نے مجھے پابند کیا ہے کہ آپ کو یہ ضرور بتاؤں۔”
اسد نے سر ہلایا اور حویلی کی طرف چل دیا۔
وہ بند کمرہ — جہاں تانبے کا صندوق تھا
حویلی بڑی تھی — کئی کمرے، بڑا صحن، کنواں۔ مگر آخری کمرہ — جس کا دروازہ لوہے کا تھا اور جس پر تانبے کی ایک بڑی مہر لگی تھی — وہ بند تھا۔
اسد نے پہلے دن دیکھا — مہر عجیب تھی۔ اس پر عربی حروف تھے، مگر ترتیب عجیب تھی — جیسے کوئی پیچیدہ طلسم ہو۔ اس نے فوٹو لی اور ایک عالم دین کو بھیجی۔ عالم نے واپس لکھا: “یہ پڑھنے کے قابل نہیں — مگر اس میں ایک جملہ ہے: ‘اللہ کی رحمت سے باہر کوئی نہیں — مگر یہ مہر نہ توڑنا۔'”
اسد کو تجسس ہوا۔ رات کو اس نے ہتھوڑا اٹھایا۔
ایک ضرب — مہر چٹخی۔
دوسری ضرب — مہر گری۔
اور تیسری ضرب سے پہلے — کمرے کے اندر سے آواز آئی۔
گہری، بھاری، اور ناخوش — جیسے کوئی بہت لمبے عرصے بعد جاگا ہو۔
“کس نے جگایا؟”
اسد کے ہاتھ سے ہتھوڑا گرا۔
وہ رات جب ملتان کا آسمان سرخ ہو گیا
دروازہ اندر سے دھکے کھانے لگا — لوہے کا دروازہ، مگر ہل رہا تھا جیسے کاغذ کا ہو۔
اسد بھاگا — صحن میں آیا، باہر نکلا۔ گلی میں آیا تو دیکھا — پوری گلی کے لوگ باہر کھڑے تھے۔ وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے جو اسد نے ابھی کیا — اور ان کے چہروں پر خوف تھا۔
ایک بوڑھی عورت — جو گلی کے سرے پر بیٹھی تھی، تسبیح ہاتھ میں — چلائی: “مہر توڑ دی! بیٹا، مہر توڑ دی!”
پھر اوپر آسمان میں — بادل نہیں تھے، مگر ایک گرج سنائی دی۔ اور حویلی کی چھت سے ایک سیاہ دھواں اٹھنے لگا — بے رنگ نہیں، بالکل کالا، جیسے کسی نے سیاہی انڈیلی ہو۔
اور ملتان کا آسمان — ایک لمحے کے لیے — سرخ ہو گیا۔
پھر خاموشی۔
بالکل مکمل خاموشی — جیسے شہر کی تمام آوازیں ایک لمحے کے لیے تھم گئی ہوں۔
پھر دور سے — حرم دروازے کے قریب واقع مزار سے — اذان کی آواز بلند ہوئی۔ فجر کی اذان — رات کے چار بجے۔
اور دھواں — آہستہ آہستہ — ختم ہو گیا۔
تانبے کا صندوق — اور جو اندر تھا
صبح اسد ایک بزرگ مولانا کو لے کر حویلی گیا۔ بند کمرے کا دروازہ اب بھی بند تھا — مگر مہر گری پڑی تھی۔
مولانا نے اللہ کا نام لیا — دروازہ کھولا۔
اندر ایک بڑا کمرہ تھا — خالی، مگر درمیان میں ایک بڑا تانبے کا صندوق۔ کھلا ہوا — خالی۔ اور صندوق کے اندر دیواروں پر — جلے ہوئے نشان۔ جیسے کچھ بہت طاقتور چیز کو برسوں سے وہاں بند رکھا گیا ہو اور اب وہ نکل گئی ہو۔
مولانا نے کہا — “میاں جمال الدین نے کچھ جنات کو قید کیا تھا — ایک سو سال سے زیادہ۔ تم نے مہر توڑ کر انہیں آزاد کر دیا۔”
“وہ کہاں گئے؟” اسد نے کانپتی آواز سے پوچھا۔
“اللہ جانے۔ مگر ایک بات ہے —” مولانا نے رک کر کہا، “— رات والی اذان کے بعد وہ نہیں آئے۔ شاید اذان نے انہیں روک دیا۔ یا شاید وہ اتنے عرصے کی قید کے بعد بھاگ گئے۔”
اسد نے حویلی فروخت کر دی۔ نئے مالک نے بند کمرہ سیمنٹ سے بھروا دیا۔
مگر گلی کے بزرگ کہتے ہیں — “جو نکل گئے، وہ واپس آتے ہیں۔ بس وقت لگتا ہے۔”
اور ہر سال — سردیوں میں — اس گلی میں ایک رات کے لیے — بجلی جاتی ہے۔ بغیر وجہ کے۔ پوری گلی کی، پوری رات کے لیے۔
بس اس ایک گلی کی۔
کیا آپ کے گھر یا محلے میں کبھی کچھ ایسا ہوا جس کی کوئی عقلی وضاحت نہ ہو؟ کمنٹ میں بتائیں۔