پراسرار کہانیاں

پشاور کا وہ قلعہ — جہاں جن نے تین سوالوں کا جواب مانگا

پشاور کا وہ قلعہ جہاں جن نے تین سوالوں کا جواب مانگا


📌 خلاصہ: پشاور کے قصہ خوانی بازار کے پیچھے ایک پرانا قلعہ ہے — جس کے تہہ خانے میں ایک ایسا جن رہتا تھا جو صرف ان سے بات کرتا تھا جو تین سوالوں کا سچا جواب دے سکیں۔ ایک نوجوان فوجی افسر کی وہ رات جب اس نے قسمت آزمائی — اور جو اس نے جیتا وہ سونے سے بھی قیمتی تھا۔ ⏱ پڑھنے کا وقت: ۱۳ منٹ | زمرہ: پراسرار کہانی

پشاور کا وہ قلعہ — جہاں جن نے تین سوالوں کا جواب مانگا

پشاور — تاریخ کی گہرائیوں میں ڈوبا ہوا شہر۔ یہاں ہر گلی ایک کہانی ہے اور ہر پتھر ایک راز۔

قصہ خوانی بازار — جہاں صدیوں سے قصے سنائے جاتے رہے — اس کے عقب میں ایک پرانا قلعہ ہے جسے “قلعہ بالا حصار” کے نام سے جانتے ہیں۔ اس قلعے کا ایک حصہ آج بھی فوج کے پاس ہے — مگر ایک پرانا تہہ خانہ ایسا ہے جو نہ فوج کے نقشے میں ہے، نہ کسی دستاویز میں۔

پشتو میں اسے “د جنیانو کوټه” کہتے ہیں — جنات کا کمرہ۔

اور اس کمرے کے بارے میں ایک قصہ مشہور ہے — کہ اس میں ایک جن رہتا ہے جو ہر اس شخص سے تین سوال پوچھتا ہے جو اندر آئے۔ اگر سچا جواب دے — تو جو مانگے، ملتا ہے۔ اگر جھوٹ بولے — تو پھر واپس نہیں آتا۔

پشاور کا وہ قلعہ جہاں جن نے تین سوالوں کا جواب مانگا

کیپٹن ارسلان — جس نے چیلنج قبول کیا

کیپٹن ارسلان خٹک پشاور گیریژن میں تعینات تھا — بیس سال کا، بہادر، اور تھوڑا سا ضدی۔ اس نے یہ قصہ اپنے ایک پرانے ہم جماعت سے سنا جو قلعے کے قریب رہتا تھا۔

ارسلان نے ہنسی اڑائی — “پختون خوفزدہ نہیں ہوتے۔ میں خود جاؤں گا۔”

اس کے دوست نے کہا — “ارسلان، تیرے باپ نے مجھ سے کہا تھا کہ تجھے روکوں۔ تیرے دادا کے بارے میں کچھ ہے جو تجھے معلوم نہیں۔”

“کیا؟”

“تیرے دادا بھی وہاں گئے تھے — پچاس سال پہلے۔ اور واپس آئے تھے۔ مگر کبھی نہیں بتایا کہ کیا ہوا۔ بس اتنا کہا — ‘جھوٹ مت بولنا، چاہے جان جائے۔'”

ارسلان رک گیا۔ پھر کہا — “تو ٹھیک ہے۔ میں سچ بولوں گا۔”

تہہ خانے میں — اور تین سوال

رات کے گیارہ بجے ارسلان قلعے کی پرانی دیوار کے پاس پہنچا۔ ایک پرانا راستہ تھا — پتھروں کے پیچھے — جو نیچے جاتا تھا۔ وہ نیچے اترا۔

تہہ خانہ چھوٹا تھا — اور بالکل خالی لگتا تھا۔ پتھر کی دیواریں، مٹی کا فرش۔ کوئی دروازہ نہیں، کوئی کھڑکی نہیں۔

ارسلان نے ٹارچ جلائی۔

اور پھر کونے سے آواز آئی — پشتو میں، مگر بہت واضح:

“خٹک خاندان کا بیٹا آیا ہے۔ پہلا سوال — تم یہاں کیوں آئے؟”

ارسلان نے سوچا — وہ کہہ سکتا تھا کہ ہمت آزمانے آیا ہوں، یا خزانہ ڈھونڈنے۔ مگر اس نے سچ کہا:

“میں آیا ہوں کیونکہ میرے دادا آئے تھے اور انہوں نے کبھی نہیں بتایا کہ یہاں کیا ہوا۔ مجھے جاننا ہے۔”

خاموشی۔ پھر آواز آئی — “دوسرا سوال — تمہاری سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟”

یہ سوال مشکل تھا۔ ارسلان نے ایک لمحہ لیا — پھر کہا:

“میری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ میں اپنی ماں کو بہت یاد کرتا ہوں اور کبھی ان سے نہیں کہہ سکا۔ وہ تین سال سے بیمار ہیں اور میں نے کبھی نہیں رویا — مگر اندر سے ٹوٹا ہوا ہوں۔”

اس بار خاموشی زیادہ لمبی تھی۔ پھر آواز آئی — “تیسرا سوال — اگر تمہیں کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو — خزانہ یا اپنی ماں کی صحت — تم کیا مانگو گے؟”

ارسلان کو ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا:

“ماں کی صحت۔”

جو ملا — اور جو دادا نے چھپایا تھا

تہہ خانے میں ہوا چلی — گرم، خوشبودار۔ کونے میں ایک روشنی آئی اور ایک آواز:

“خٹک خاندان نے ہمیشہ سچ کہا۔ تمہارے دادا نے بھی یہی کہا تھا — اپنے باپ کی صحت مانگی تھی۔ اور ملی تھی۔ اور اب تم آئے ہو — اسی خون کے ساتھ۔ جاؤ۔ جو مانگا، ہوگا۔”

ارسلان نے پوچھا — “تم کون ہو؟”

\

“ہم وہ ہیں جو اس قلعے میں صدیوں سے ہیں۔ ہم انسان کے دشمن نہیں — مگر جھوٹ بولنے والوں کے۔”

روشنی بجھ گئی۔

ارسلان باہر نکلا — اور اگلی صبح اس کی ماں کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی بیماری کا ٹیسٹ غلط آیا تھا۔ وہ صحت مند تھیں۔

اتفاق؟ یا کچھ اور؟

ارسلان نے اپنے دادا کو فون کیا — پہلی بار براہ راست پوچھا۔ دادا نے لمبی خاموشی کے بعد کہا: “تو وہاں گیا؟”

“ہاں، دادا جی۔”

“اور سچ بولا؟”

“ہاں۔”

دادا کی آواز بھاری ہو گئی: “اسی لیے میں نے کبھی نہیں بتایا — کہ جو جانتا ہے، وہ وہاں دوبارہ جا سکتا ہے۔ اور دوبارہ جانا ممنوع ہے۔”

ارسلان نے وعدہ کیا — کبھی نہیں جائے گا۔

اور آج وہ قلعہ وہاں کھڑا ہے — پشاور کی مصروف گلیوں کے بیچ — پرانا، خاموش، راز بھرا۔

پشاور کا وہ قلعہ جہاں جن نے تین سوالوں کا جواب مانگا



اگر آپ کو تین سوالوں کا سچا جواب دینا ہو تو کیا آپ جا سکتے ہیں؟ کمنٹ میں بتائیں۔

TaleMingle Team

TaleMingle ایک اردو ادبی پلیٹ فارم ہے جہاں ہم آپ کے لیے دل کو چھو لینے والی، مزاحیہ اور سبق آموز کہانیاں لاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں