فجر ابھی ہوئی تھی۔ آسمان پر نارنجی لکیر کھنچ رہی تھی اور لاہور آنکھیں ملتا جاگ رہا تھا۔ انارکلی کی گلیوں سے پراٹھے تلنے کی مہک آ رہی تھی، قریبی نل پر ایک عورت بھاری گھڑا بھر رہی تھی، اور مسجد کی دیوار پر کبوتر ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے۔
رشید نے ہاتھ اسٹیئرنگ پر رکھا اور ایک لمحہ بیٹھا رہا۔

رات کو آٹھ سو روپے کمائے تھے۔ بیٹے کی فیس چار ہزار تھی۔ ماں کی دوائی ڈیڑھ ہزار۔ حساب کبھی نہیں ملتا تھا — ستائیس سال سے نہیں ملا تھا۔
“بھائی — ماڈل ٹاؤن جانا ہے؟”
رشید نے آنکھیں اٹھائیں۔
ایک صاحب کھڑے تھے — سفید شلوار قمیص، گہری سلیٹی واسکٹ، ہاتھ میں چمڑے کا کالا بیگ اور کان پر موبائل۔ چہرہ تھکا ہوا، مگر آنکھوں میں ایک خاص قسم کی بے نیازی — جو پیسے والوں کو آ جاتی ہے۔
“جی صاحب، بیٹھ جائیں۔”
پورا سفر اس آدمی نے فون پر گزارا۔
“ندیم صاحب، سنیں — فائل کل تک نہ ملی تو ڈیل توڑ دوں گا… نہیں، میں سمجھوتہ نہیں کروں گا… تم جانتے نہیں میں کیا کر سکتا ہوں…”
رشید آگے دیکھتا رہا۔ لاہور کی سڑک — ٹریفک کا شور، دھوئیں کی بو، دونوں طرف کھلتی دکانیں۔
ایسے مسافر اکثر ملتے تھے۔ بڑی بڑی باتیں — فون پر غصہ — لیکن رکشہ چلانے والے کی طرف ایک نظر نہیں۔ جیسے وہ انسان نہیں، مشین ہے۔
رشید کو برا نہیں لگتا تھا۔ اب نہیں لگتا تھا۔
ماڈل ٹاؤن مین گیٹ کے قریب رکشہ رکا۔ صاحب نے تیزی سے ڈیڑھ سو روپے تھمائے اور اترتے وقت بھی فون کان پر تھا۔
“شکریہ — چلو —”
اور وہ تیز قدموں سے گلی میں غائب ہو گئے۔
رشید نے نوٹ جیب میں رکھا اور رکشہ آگے بڑھانے لگا۔
تبھی نظر گئی۔
پچھلی سیٹ پر — وہ کالا چمڑے کا بیگ۔
جب رشید نے بیگ اٹھایا
رشید نے رکشہ روکا۔
اس نے پیچھے ہاتھ بڑھا کر بیگ اٹھایا — بھاری تھا۔ اندر ہاتھ ڈالا تو انگلیاں نوٹوں کی گڈیوں سے ٹکرائیں۔
ہاتھ رک گیا۔
ایک لمحے کے لیے — صرف ایک لمحے کے لیے — بیٹے کی فیس، ماں کی دوائی، کرایہ، حساب — سب ایک ساتھ آنکھوں کے سامنے آئے۔
مگر رشید نے بیگ فوراً بند کر دیا۔
نہیں۔
یہ اس کا نہیں ہے۔
اس نے سائیڈ جیب ٹٹولی — ایک وزیٹنگ کارڈ نکلا۔ “ندیم سلطان — ڈائریکٹر — النور ٹریڈنگ — ڈیفینس، لاہور۔”
رشید کے موبائل میں بیلنس تھا بارہ روپے۔ کل کے بچے ہوئے۔
اس نے نمبر ملایا۔
ندیم سلطان گھر میں قدم رکھتے ہی ٹھٹک گئے۔
بیگ نہیں تھا۔
پانچ لاکھ روپے — کل بینک سے نکالے تھے، پلاٹ کی بیعانہ کے لیے۔ اور اس بیگ میں رقم کے علاوہ ایک اور چیز تھی — ایک پرانا لفافہ۔ پیلا، مڑا ہوا، سرے سے پھٹا ہوا۔ ابا جی کا خط۔ جو وہ ستائیس سال سے ہر سفر میں ساتھ رکھتے تھے۔
ابا جی کو گئے دس سال ہو گئے تھے — مگر وہ خط —
موبائل بجا۔ انجانا نمبر۔
“صاحب جی — میں رشید بولتا ہوں — رکشہ والا۔ آپ کا بیگ میرے پاس رہ گیا ہے۔”
ندیم کے ہاتھ سے موبائل لگ بھگ چھوٹ گیا۔
“کہاں ہو تم؟ رکو — میں ابھی آتا ہوں —”
“صاحب جی، میں خود آ جاتا ہوں۔ آپ پتہ بتائیں۔”
تیس منٹ بعد رشید کا رکشہ ڈیفینس کی ایک بنگلے والی گلی میں کھڑا تھا۔
ندیم سلطان نے خود دروازہ کھولا۔ نظریں بیگ پر گئیں — پھر رشید کے چہرے پر۔
رشید نے بیگ آگے بڑھا دیا۔
“یہ لیں صاحب جی۔ سب ٹھیک ہے اندر — میں نے صرف کارڈ نکالا تھا، نمبر لینے کو۔”
ندیم نے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ رشید نے ہاتھ ہلایا۔
“نہیں صاحب جی، آپ یہیں چیک کر لیں — میں کھڑا ہوں۔”
جب بیگ میں ابا جی کا خط ملا
ندیم نے بیگ کھولا۔
پانچ لاکھ — ہر گڈی اپنی جگہ۔
پھر اس نے سائیڈ زپ کھینچی — اور ہاتھ ٹھہر گیا۔
وہ پرانا لفافہ — مڑا ہوا، پیلا — وہاں موجود تھا۔
ندیم نے لفافہ نکالا اور ہونٹ بھینچ لیے۔
یہ ابا جی نے اٹھارہ سال کی عمر میں لکھا تھا — جب ندیم پہلی بار نوکری ڈھونڈنے نکلا تھا۔ خالی ہاتھ، خالی جیب، صرف حوصلہ۔
اندر لکھا تھا:
“بیٹے، دنیا میں سب سے بڑا آدمی وہ نہیں جو سب سے زیادہ کماتا ہے۔ سب سے بڑا آدمی وہ ہے جس پر لوگ اندھیرے میں بھی بھروسہ کریں۔ — ابا جی”
ندیم کی آنکھوں میں پانی آ گیا۔
کتنے سال ہو گئے تھے۔ کتنی ڈیلیں، کتنے معاہدے، کتنے مقدمے — سب میں وہ جیتا تھا۔ مگر ابا جی کا یہ جملہ — یہ کب سے بھولتا جا رہا تھا؟
وہ باہر نکلے۔
رشید ابھی تک کھڑا تھا — ایک پاؤں رکشے کی پائیدان پر، نظریں سامنے، دھوپ میں کھڑا سادہ آدمی۔
“بھائی…”
رشید نے مڑ کر دیکھا۔
“تم نے آج بہت بڑا کام کیا۔ کچھ انعام لو —”
رشید نے دھیرے سے انکار میں ہاتھ ہلایا۔
“صاحب جی — امانت واپس کرنا تو فرض ہے۔ اس میں انعام کیسا؟”
“لیکن پانچ لاکھ —”
“صاحب جی۔” رشید نے مسکراتے ہوئے کہا — ایک سادہ، بے لاگ مسکراہٹ۔ “میرا بیٹا مجھ سے پوچھتا ہے — ابا، ایمانداری سے کیا ملتا ہے؟ اگر آج میں یہ بیگ لے جاتا، تو اسے کیا جواب دیتا؟”
ندیم سلطان کچھ نہ بول سکے۔
رشید نے رکشہ اسٹارٹ کیا۔ ایک بار مڑ کر دیکھا — اور چل دیا۔
اگلی صبح ندیم سلطان داتا دربار کے باہر فجر کے بعد پہنچے۔
ایک چائے والے نے بتایا: “رشید بھائی؟ ہاں جی — روز آتے ہیں نماز کو۔ ابھی نکلے ہیں اندر سے۔”
ندیم نے انتظار کیا۔ مٹی کے کپ میں چائے پی — کڑک، الائچی والی۔
رشید نکلا تو ندیم کو دیکھ کر رک گیا۔
“صاحب جی؟ آپ یہاں؟”
ندیم نے ایک لفافہ آگے کیا۔
“یہ انعام نہیں ہے رشید بھائی۔ یہ میرے ابا جی کا سبق ہے — جو تم نے کل مجھے یاد دلایا۔ اپنے بیٹے کی فیس کے لیے رکھو — میری طرف سے نہیں، ان لوگوں کی طرف سے جن کے ساتھ میں نے برسوں انصاف نہیں کیا۔”
رشید کے ہاتھ کانپے۔
“صاحب جی، یہ بہت زیادہ —”
“لے لو بھائی۔” ندیم کی آواز بھاری ہو گئی۔ “کبھی کبھی اللہ غریب کے ہاتھوں امیر کو سبق سکھاتا ہے۔ آج میری باری تھی۔”
داتا دربار کی اس صبح — کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ میں، اذان کی گونج میں، پراٹھے کی مہک میں — دو آدمیوں نے ایک دوسرے کے چہرے میں کچھ دیکھا جو الفاظ میں نہیں آتا۔
ایک نے ایمانداری سے دیا۔
دوسرے نے شکرگزاری سے لیا۔
اور ابا جی کا وہ خط — جو ستائیس سال سے لفافے میں بند تھا — آخر کار اپنا کام کر گیا۔
اگر آپ رشید کی جگہ ہوتے — تو آپ کیا کرتے؟ اور کیا کبھی کسی نے آپ کے ساتھ ایسی ایمانداری کی؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔