مزاحیہ کہانیاں

فیصل آباد سے لاہور تک ایک ناقابلِ فراموش بس کا سفر

فیصل آباد سے لاہور بس کا سفر — مزاحیہ اردو کہانی فیچر امیج

“Faisalabad Lahore Bus Safar” — اگر آپ نے کبھی فیصل آباد سے لاہور کا سفر بس میں کیا ہے، تو آپ جانتے ہیں کہ یہ صرف ایک سفر نہیں — یہ ایک تجربہ ہے۔ یہ کہانی ہے بابر صاحب کی، جو اپنی بھانجی کی شادی پر لاہور جا رہے تھے، اور ایک عام سی موٹر وے بس نے ان کی زندگی کا یادگار دن بنا دیا۔

یہ کہانی فیصل آباد کے گھنٹہ گھر چوک سے شروع ہوتی ہے، جہاں ایک عام سی صبح بہت غیر معمولی بن گئی۔

بابر صاحب اور شادی کا ٹائٹ شیڈول

بابر صاحب  

بابر صاحب پینتالیس سال کے، فیصل آباد کے کپڑے کے کاروبار سے وابستہ، اور موٹاپے کے بادشاہ۔ ان کی بھتیجی صائمہ کی شادی لاہور میں تھی، اور بابر صاحب کو نکاح سے پہلے پہنچنا تھا۔

شادی کا وقت تھا دوپہر دو بجے۔ ابھی صبح کے آٹھ بجے تھے۔ “موٹر وے سے دو گھنٹے میں پہنچ جاؤں گا،” بابر صاحب نے دل میں کہا۔ “بس پکڑتا ہوں، تین بجے سے پہلے لاہور۔”

انہوں نے نیا شیروانی پہنا — کریم رنگ کا، سونے کے دھاگے کی کڑھائی والا۔ ساتھ میں نئی پاجامہ، نئے کھسے، اور ایک چھوٹا سا بریف کیس جس میں صائمہ کے لیے سلامی کے پانچ ہزار روپے۔

گھنٹہ گھر چوک سے انہوں نے ڈائیووو کے بجائے ایک “اکنامی کلاس” کی نجی بس پکڑی۔ سوچا — پیسے بچ جائیں گے۔ یہ ان کی پہلی غلطی تھی۔

دوسری غلطی یہ تھی کہ انہوں نے بس کا نام دیکھا — “تیز پر سکون”۔ بابر صاحب کو لگا کہ یہ “تیز” ہے، اور “پر سکون” بھی۔ حقیقت میں یہ نہ تیز تھی، نہ پر سکون۔

بس میں قدم رکھنا اور پہلا جھٹکا

  بس کا سفر

بابر صاحب نے بس میں قدم رکھا۔ اور رک گئے۔

یہ بس باہر سے دیکھنے میں نئی لگی تھی، لیکن اندر سے — اندر سے یہ بس شاید 1985 کی تھی۔ سیٹیں پھٹی ہوئی، فوم باہر، کھڑکیاں ادھ بند، اور AC کے نام پر چھت پر ایک ٹوٹا ہوا پنکھا۔

کنڈکٹر نے کہا: “صاحب، آگے بائیں ہاتھ سیٹ نمبر 14۔ کھڑکی والی۔”

بابر صاحب آگے بڑھے۔ سیٹ تک پہنچے۔ سیٹ پر پہلے سے ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی — اپنے بچے کے ساتھ۔ بچہ شاید پانچ سال کا، ہاتھ میں ایک بڑا سا سموسہ، چہرے پر کھٹمل کی طرح چپکی چٹنی۔

“بہن جی،” بابر صاحب نے ادب سے کہا، “یہ سیٹ نمبر 14 ہے؟”

عورت نے غور سے دیکھا۔ “ہاں، 14 ہی ہے۔”

“تو میری ٹکٹ پر لکھا ہے یہی سیٹ۔”

عورت ناراض ہو گئی۔ “نہیں! یہ سیٹ ہماری ہے۔ ہمیں ساتھ ہی بیٹھنا ہے۔ آپ کنڈکٹر سے بات کریں!”

بابر صاحب کنڈکٹر کے پاس گئے۔ کنڈکٹر نے سر ہلایا: “صاحب، آپ سیٹ نمبر 24 پر بیٹھ جائیں۔ پیچھے۔”

بابر صاحب نے سر ہلایا۔ “ٹھیک ہے۔” پیچھے گئے۔ سیٹ نمبر 24۔

یہاں بھی پہلے سے کوئی بیٹھا تھا۔ ایک بزرگ آدمی، تقریباً 70 سال، چہرے پر سفید داڑھی، آنکھوں میں عینک۔ ساتھ میں ایک پرندوں کا پنجرا — جس میں دو طوطے۔

بابر صاحب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ “بھائی صاحب، یہ پرندے بس میں؟”

بزرگ نے کہا: “بیٹا، یہ میری بہو کے لیے تحفہ ہیں۔ بولتے ہیں۔ سنیں! طوطے، السلام علیکم بولو!”

طوطوں نے بہ یک زبان کہا: “السلام علیکم!”

بابر صاحب کا پہلا ردعمل تھا — حیرت۔ دوسرا — مسکراہٹ۔

جب بس نے روانگی کا سگنل دیا — Faisalabad Lahore Bus Safar شروع

  جی ٹی روڈ سفر  

بس روانہ ہوئی۔ گھنٹہ گھر چوک سے نکلی۔ پہلے پانچ منٹ سب نارمل تھا۔ پھر کنڈکٹر نے ایک ایلان کیا:

“بھائیو اور بہنو! یہ بس صرف لاہور جائے گی۔ کوئی شکایت ہو تو میں نہیں، ڈرائیور سے کریں۔ AC ٹھیک ہے۔ پنکھا چلا رہا ہوں۔ کھانے کے لیے رستے میں ایک ہوٹل پر روکیں گے۔ شکریہ۔”

بابر صاحب نے سر ہلایا۔ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے۔ موٹر وے پر جانا تھا۔ پہلے 10 منٹ سب ٹھیک تھا۔

پھر اچانک — بس نے اچانک یوٹرن لیا۔ موٹر وے کی طرف نہیں، بلکہ گاؤں کی پگڈنڈیوں کی طرف۔

بابر صاحب چونک گئے۔ “بھائی صاحب،” انہوں نے کنڈکٹر سے پوچھا، “یہ بس موٹر وے سے نہیں جائے گی؟”

کنڈکٹر نے سادگی سے کہا: “نہیں صاحب، آج موٹر وے کا ٹول ٹیکس بہت زیادہ ہے۔ ڈرائیور صاحب نے کہا — جی ٹی روڈ سے جائیں گے۔ تھوڑا لمبا ہے، پر پیسے بچ جائیں گے۔”

بابر صاحب کا دل دھک سے رہ گیا۔ “تھوڑا لمبا” کا مطلب کیا ہوتا ہے کراچی کی زبان میں؟ ایک گھنٹہ؟ ڈیڑھ گھنٹہ؟

“تو فیصل آباد سے لاہور کتنا وقت لگے گا؟”

کنڈکٹر نے کندھے اچکائے۔ “صاحب، اللہ بہتر جانتا ہے۔ شاید چار گھنٹے، شاید پانچ۔ راستے میں بھیڑ پر منحصر ہے۔”

بابر صاحب نے گھڑی دیکھی۔ نو بج چکے تھے۔ شادی دو بجے۔ پانچ گھنٹے میں پہنچ گئے تو ٹھیک، ورنہ نکاح بغیر چاچا کے ہو جائے گا۔

جی ٹی روڈ پر طوطوں کا مزاحیہ شو

  طوطے  

جی ٹی روڈ ایک عجیب راستہ ہے۔ کبھی کبھی روڈ صاف، کبھی گڑھے، کبھی گاؤں، کبھی شہر۔ بس ہر دس منٹ بعد رکتی، کوئی نیا مسافر چڑھتا، کوئی اترتا۔

بزرگ کے طوطے بور ہونے لگے۔ شاید ٹریفک کی آوازیں پسند نہیں آ رہی تھیں۔ پہلے ایک نے زور سے کہا: “چائے!”

سب مسافر چونک گئے۔

پھر دوسرے نے کہا: “چائے!”

پھر دونوں نے ایک ساتھ: “چائے، چائے، چائے!”

بس میں ہنسی پھیل گئی۔ ایک نوجوان نے کہا: “ابا جی! آپ کے طوطے چائے مانگ رہے ہیں!”

بزرگ نے ہنستے ہوئے کہا: “بیٹا، یہ گھر میں چائے کا وقت سن سن کر سیکھے ہیں۔ اب جب چائے کا وقت ہوتا ہے، یہ خود ہی مانگنے لگتے ہیں!”

پھر طوطوں نے ایک نیا راگ شروع کیا — “ٹیلی فون! ٹیلی فون!”

“یہ کیوں؟” بابر صاحب نے پوچھا۔

بزرگ نے ہنس کر کہا: “گھر میں جب فون بجتا تھا، میری بیوی کہتی تھی — ‘ٹیلی فون اٹھاؤ!’ یہ سن سن کر سیکھے۔ اب جب گھنٹی بجتی ہے، یہ بھی کہتے ہیں!”

بابر صاحب کی ہنسی نکل گئی۔ پہلی بار اس صبح وہ ہنسے۔ “ابا جی، آپ کے طوطے تو پاگل کر دیں گے!”

شیخوپورہ میں اچانک دستی پنکچر

  پنکچر

گیارہ بجے بس شیخوپورہ کے قریب پہنچی۔ ابھی لاہور تین گھنٹے دور تھا۔

اچانک — دھم! بس کا ٹائر پھٹ گیا۔

ڈرائیور نے بس روک لی۔ سب مسافر اتر گئے۔ کنڈکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا: “گھبرائیں مت! آدھے گھنٹے میں ٹھیک ہو جائے گا۔”

بابر صاحب کا دل بیٹھ گیا۔ “آدھا گھنٹہ” پاکستان میں ہمیشہ “ایک گھنٹہ” ہوتا ہے۔ اور “ایک گھنٹہ” “دو گھنٹے”۔

سب مسافر روڈ سائیڈ پر کھڑے ہو گئے۔ گرمی تھی۔ پسینہ آ رہا تھا۔ بابر صاحب کا نیا کریم رنگ کا شیروانی پسینے سے بھیگنے لگا۔

پاس میں ایک چھوٹا سا چائے کا ڈھابہ تھا۔ ادھر سے ایک شخص آیا — تقریباً 60 سال کا، کسان جیسا۔ بولا: “بھائیو! میرا گھر قریب ہی ہے۔ آدھے گھنٹے کے لیے میرے گھر آ جاؤ۔ چائے پلاؤں گا۔ بیوی روٹیاں بنا دے گی۔”

سب نے انکار کیا۔ “بھائی صاحب، شکریہ، لیکن آپ کو تکلیف ہو گی۔”

کسان نے ہنستے ہوئے کہا: “تکلیف کاہے کی! روزانہ تو دس بسیں یہاں خراب ہوتی ہیں۔ اب یہ میرا کام بن چکا ہے!”

سب ہنس پڑے۔

آدھا گھنٹہ گزرا۔ ٹائر ٹھیک نہیں ہوا۔ ایک گھنٹہ گزرا۔ پھر بھی نہیں۔

بابر صاحب نے گھڑی دیکھی۔ ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔ شادی ڈیڑھ گھنٹے میں۔ لاہور ابھی دو گھنٹے دور۔

بابر صاحب کا خفیہ پلان اور اچانک رکشہ

  رکشہ  

بابر صاحب نے دل میں کہا: “اس بس کا انتظار نہیں کر سکتا۔” انہوں نے کنڈکٹر سے کہا: “میں آگے کا راستہ خود دیکھ لوں گا۔ میرا کرایہ واپس کریں۔”

کنڈکٹر نے ٹکا سا جواب دیا: “صاحب، کرایہ واپس نہیں ہوتا۔ آپ نے ٹکٹ خریدا ہے، سفر کیا ہے۔ اب آدھا کرایہ کس بات کا؟”

بابر صاحب نے بحث کی۔ کنڈکٹر بحث کرتا رہا۔ آخر بابر صاحب نے کہا: “ٹھیک ہے، آپ رکھیں! میں جا رہا ہوں!”

انہوں نے بریف کیس اٹھایا اور روڈ پر کھڑے ہو گئے۔ ہاتھ ہلانا شروع کیا۔

پہلی گاڑی نکل گئی۔ دوسری بھی۔ تیسری ایک رکشہ تھا — وہ رک گیا۔

“کہاں جانا ہے، صاحب؟” رکشے والے نے پوچھا۔

“لاہور!”

رکشے والا ہنسنے لگا۔ “صاحب، یہ رکشہ ہے۔ لاہور دو گھنٹے دور ہے!”

“بھائی، چاہے جو کرایہ لگے، لے چلو! میری بھتیجی کی شادی ہے!”

رکشے والے نے سوچا۔ “صاحب، چار ہزار روپے۔”

بابر صاحب نے فوراً جیب سے پیسے نکالے۔ بریف کیس میں صائمہ کے لیے پانچ ہزار سلامی تھی، چار ہزار رکشے والے کو دے دیے۔

رکشے میں بیٹھے۔ روانہ ہوئے۔ رفتار: 30 کلومیٹر فی گھنٹہ۔ شور: مسلسل۔ آرام: زیرو۔

دو گھنٹے بعد، شیروانی پسینے سے گیلی، بال خراب، اور چہرے پر دھول — بابر صاحب لاہور پہنچے۔

شادی پر دلچسپ اختتام — اور سب کی ہنسی

  شادی  

جب بابر صاحب شادی ہال پہنچے، تو نکاح ہو چکا تھا۔ صائمہ خوبصورت دلہن بنی، ہنس رہی تھی۔ بابر صاحب کو دیکھتے ہی سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔

“چاچا!” صائمہ چیخی، “آپ کو کیا ہوا؟”

پوری فیملی جمع ہو گئی۔ بابر صاحب نے ساری کہانی سنائی — ٹوٹی بس، طوطے، پنکچر، رکشہ والا۔ ہر دس سیکنڈ میں ہنسی کا شور۔

صائمہ کے ابو نے کہا: “بھائی، تم نے بس میں اتنا تکلیف اٹھائی! میں نے تو کہا تھا — ڈائیووو سے آؤ۔”

بابر صاحب نے ہنستے ہوئے کہا: “ہاں، اب اگلی بار ڈائیووو ہی سے آؤں گا۔ لیکن سچ کہوں — اگر بس میں نہ آتا، تو وہ طوطے کبھی نہیں ملتے۔ ان کی ‘چائے، چائے، ٹیلی فون’ آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے!”

صائمہ نے کہا: “چاچا، یہ کہانی تو فیملی فنکشن میں سنانے والی ہے!”

پھر بابر صاحب نے بریف کیس کھولا۔ سلامی کے پانچ ہزار میں سے چار ہزار رکشے والے کو دے چکے تھے۔ بس ایک ہزار باقی تھا۔

انہوں نے ایک ہزار صائمہ کو دیا اور کہا: “بیٹی، یہ سلامی۔ باقی چار ہزار راستے کا سلامی بن گئے۔”

صائمہ نے ہنستے ہوئے سلامی لی: “چاچا، آپ کی کہانی پانچ ہزار سے زیادہ قیمتی ہے!”

شادی کی محفل میں رات بھر بابر صاحب کی کہانی ہی موضوع گفتگو رہی۔ اور دو ہفتے بعد، صائمہ کے شوہر نے اپنی کمپنی میں ایک نیا rule بنایا — “اگر کوئی employee فیصل آباد سے لاہور آ رہا ہے، تو ہمیشہ ڈائیووو ٹکٹ دیا جائے!”

اور بابر صاحب؟ آج بھی جب کوئی فیصل آباد سے بس کا نام لے، وہ ہنس کر کہتے ہیں: “بھائی، مجھ سے دور رہنا!”

— ختم —


یہ Faisalabad Lahore Bus Safar کیا سکھاتی ہے؟

یہ faisalabad lahore bus safar کی کہانی صرف ہنسنے کے لیے نہیں — اس میں زندگی کے کئی چھپے ہوئے اسباق ہیں:

  • پیسہ بچانے میں وقت گنوانا: “اکنامی” کا چکر اکثر مہنگا پڑ جاتا ہے
  • ہر سفر میں ایک کہانی ہوتی ہے: ٹوٹی بس بھی یادگار بن جاتی ہے
  • اجنبی بھی فرشتے ہو سکتے ہیں: وہ کسان جس نے گھر آنے کی پیشکش کی
  • طوطے بھی استاد ہوتے ہیں: سن سن کر سب کچھ سیکھ لیتے ہیں
  • پاکستانی ٹریفک سب سے بڑا امتحان ہے: صبر اور ہنسی دونوں چاہیے
  • مہنگا کبھی کبھی سستا ہوتا ہے: ڈائیووو کا کرایہ زیادہ، لیکن وقت اور سکون پکا

اگر آپ نے کبھی پاکستان میں بس کا سفر کیا ہے، تو آپ سمجھیں گے — یہ صرف منزل تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ زندگی کا ایک چھوٹا سا تجربہ ہے۔

کیا آپ کے پاس کوئی ایسی کہانی ہے؟ کیا آپ نے کبھی فیصل آباد سے لاہور کا یا کسی اور شہر کا یادگار سفر کیا ہے؟

مزید مزاحیہ کہانیاں پڑھیں

اگر آپ کو یہ faisalabad lahore bus safar کی کہانی پسند آئی، تو ہماری مزید مزاحیہ کہانیاں ضرور پڑھیں۔

کراچی والے ضرور پڑھیں کراچی کی بس میں پھنسا ٹیوشن ٹیچر — یہ بھی ایک یادگار سفر کی کہانی ہے۔ اور اگر گاؤں دیہات کی شرارتیں پسند ہیں، تو چاچا ریاض اور غلط نمبر کی شادی ضرور پڑھیں۔

کبھی کبھی دل کو سکون چاہیے ہوتا ہے — اس کے لیے جذباتی کہانیاں اور آخری چائے جیسی دل کو چھو لینے والی کہانیاں پڑھیں۔ اور اگر زندگی میں حوصلہ چاہیے، تو چائے والے کا خواب اور سبق آموز کہانیاں آپ کو نئی روح بخشیں گی۔

آپ نے کبھی فیصل آباد سے لاہور کا سفر کیا ہے؟ یا کوئی اور یادگار بس کا سفر؟ نیچے تبصرے میں اپنی کہانی شیئر کریں اور دوستوں کو بھی یہ کہانی بھیجیں — انہیں بھی ہنسائیں!

TaleMingle Team

TaleMingle ایک اردو ادبی پلیٹ فارم ہے جہاں ہم آپ کے لیے دل کو چھو لینے والی، مزاحیہ اور سبق آموز کہانیاں لاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں