جھنگ کا جِن – اور تین بیکار خواہشیں
بلال کو اس دن اسکول نہیں جانا تھا۔
بلکہ جانا تو تھا — امّی نے صبح سات بجے جوتی اٹھا کر بھیجا بھی تھا — مگر اس نے رکشے والے کو پیسے دے کر پڑھائی کی بجائے سیدھا نالے کے کنارے کا رستہ لیا۔
جھنگ کی گرمی اس دن کچھ زیادہ ہی ستم ڈھا رہی تھی۔ گلی کے کتے بھی چھاؤں میں دبکے بیٹھے تھے۔ کہیں سے آتی تیل میں تلتے پکوڑوں کی مہک نے ایک لمحے کو روکا، پھر بلال نے جوتی اتاری، پاؤں گندے پانی میں ڈالے، اور آنکھیں بند کر لیں۔
تبھی پاؤں کو کچھ لگا۔
پرانی، زنگ آلود، سبز رنگ کی بوتل۔
اس نے اٹھا کر دیکھا۔ اندر سے کچھ ہلا۔
“ارے یار، اچار تو نہیں۔۔۔”
ڈھکن کھولی۔
دھواں نکلا۔ پہلے نیلا، پھر سبز، پھر اتنا گہرا کالا کہ بلال نے آنکھیں مچ لیں۔
جب کھولیں تو سامنے ایک بزرگ کھڑے تھے۔ لمبی سفید داڑھی، پرانا لباس، آنکھوں میں ہزار سال کا غصہ۔
“میں آزاد ہوں!” وہ گرجے۔
“جی۔۔۔” بلال نے آہستہ کہا۔
“میں جِن ہوں! ہزار سال بوتل میں بند رہا۔ تو میرا آزاد کرنے والا ہے — تجھے تین خواہشیں ملیں گی!”
بلال کی آنکھیں چمکیں۔
پہلی خواہش — امّی خوش ہوں – جھنگ کا جِن اور تین بیکار خواہشیں
“پہلی خواہش،” بلال نے فوری کہا، “مجھے اگلے امتحان میں فرسٹ آنا ہے۔”
جِن نے سینہ پھلایا۔ “ہو جائے گا۔”
اگلے دن امتحان تھا۔ بلال بے فکری سے بیٹھا رہا، پرچہ دیکھا، مسکرایا، اور پانچ سوالوں میں سے چار چھوڑ کر گھر چلا آیا۔
نتیجہ آیا — پچاس میں سے سات نمبر۔
بلال بھاگا جِن کے پاس۔
“یہ کیا ہوا!”
جِن نے آنکھیں پھاڑیں۔ “میں گیا تھا نا — اسکول میں داخل بھی ہوا۔ مگر وہاں بجلی نہیں تھی، استاد چھٹی پر تھے، اور پرچہ کوئی پرانے نصاب کا دے گیا۔ میں کیا کرتا!”
بلال نے سر پکڑ لیا۔
“جِن صاحب، آپ ہزار سال پرانے ہیں، مگر نظامِ تعلیم آپ سے بھی پرانا ہے۔”
دوسری خواہش — بس امیر کر دو
“ٹھیک ہے۔ دوسری خواہش — مجھے بہت سارے پیسے چاہئیں۔ ڈھیر سارے۔”
جِن نے آنکھیں بند کیں، ہاتھ اٹھایا، اور ایک بھاری تھیلا حاضر کر دیا۔
بلال نے کھولا۔ دس لاکھ روپے۔ نوٹوں کی خوشبو آئی۔
“واہ۔۔۔”
پھر اس نے موبائل اٹھایا، ڈالر ریٹ چیک کیا۔
“جِن صاحب یہ تو۔۔۔” اس نے کیلکولیٹر چلایا، “ڈھائی ہزار ڈالر بنتے ہیں۔ اس میں گھر نہیں آئے گا، گاڑی نہیں آئے گی، اور امّی نے کہا ہے بڑی بہن کی شادی میں کم از کم۔۔۔”
“رک رک رک!” جِن نے ہاتھ اٹھایا۔ “ہزار سال پہلے دس لاکھ میں پورا قصبہ آ جاتا تھا!”
“جِن صاحب — مہنگائی ہوئی ہے۔”
جِن دیر تک چپ رہا۔
پھر آہستہ سے بولا، “کتنی؟”
بلال نے پچھلے تین سال کے اخبار گوگل کر کے دکھائے۔
جِن بیٹھ گیا — مٹی پر، دھپ سے۔
“اللّٰہ۔۔۔ یہ کیا جگہ ہے۔”
– جھنگ کا جِن اور تین بیکار خواہشی
تیسری خواہش — اور جِن کا آخری فیصلہ
بلال تیسری خواہش سوچ ہی رہا تھا کہ دیکھا — جِن اپنے موبائل پر کچھ ڈھونڈ رہا ہے۔
“جِن صاحب، آپ کے پاس موبائل کب سے ہے؟”
“ابھی لیا۔ دیک — کینیڈا کا ویزا کتنے کا ملتا ہے؟”
بلال ہکّا بکّا رہ گیا۔ “آپ جانا چاہتے ہیں؟”
“بیٹا،” جِن نے موبائل بند کیا اور بڑی سنجیدگی سے بولا، “میں ہزار سال بوتل میں بند رہا — اتنا تو برا نہیں لگا۔ مگر یہاں کی لوڈشیڈنگ، یہ گھی کی قیمت، اور یہ پرچہ نظام —”
اس نے سر ہلایا۔
“— میری برداشت سے باہر ہے۔ تیری تیسری خواہش یہ کر کہ مجھے واپس بوتل میں بند کر دے۔”
بلال منہ کھولے دیکھتا رہا۔ “لیکن آپ تو جِن ہیں!”
“ہاں۔ اور جِن کا بھی ایک دل ہوتا ہے۔”
بلال نے لمبی سانس لی۔ “ٹھیک ہے۔ مگر جاتے جاتے ایک کام کریں — امّی کو بتا دیں کہ میں اسکول گیا تھا۔”
جِن نے پہلی بار مسکرایا۔
“یہ کر سکتا ہوں۔”
دھوئیں کا ایک بادل اٹھا — اور جِن بوتل میں واپس چلا گیا۔
بلال نے بوتل نالے میں پھینک دی۔
گھر پہنچا تو امّی چولھے پر چائے رکھ رہی تھیں۔
“بیٹا، اسکول سے ماسٹر جی نے فون کیا تھا — کہہ رہے تھے آج بڑی محنت کی۔”
بلال نے آسمان کی طرف دیکھا۔
“جِن صاحب، دل سے شکریہ۔”
اخلاقی سبق — خواہش سوچ سمجھ کر کریں
بلال اس رات کافی دیر تک جاگتا رہا۔
جِن تو چلا گیا — مگر ایک سوال چھوڑ گیا تھا۔
پہلی خواہش گئی — امتحان میں فرسٹ آنا چاہا۔ بجلی نہیں تھی، استاد چھٹی پر تھے، نصاب پرانا تھا۔ جِن نے کوشش کی مگر نظام کے آگے جِن بھی بے بس تھا۔
دوسری خواہش گئی — ڈھیر سارے پیسے مانگے۔ دس لاکھ آئے، مگر مہنگائی نے سب کچھ نگل لیا۔ جِن ہزار سال پرانا تھا، اسے آج کی قیمتوں کا اندازہ نہیں تھا۔
تیسری خواہش — جِن کو واپس بھیجنے کی درخواست۔ شاید تینوں میں سے سب سے عقلمندی والی یہی تھی۔
بلال نے تکیے پر لیٹے سوچا: “کاش میں نے مانگا ہوتا — محنت کرنے کا حوصلہ، امّی کی مسکراہٹ دیکھنے کا ایک موقع، اور اسکول میں ایک اچھا دوست۔”
یہ چھوٹی خواہشیں ہوتی ہیں — مگر ان کا وزن سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
سبق یہ ہے: جب زندگی کوئی موقع دے — قسمت ہو، جِن ہو، یا کوئی نیک بندہ — اسے سمجھداری سے استعمال کریں۔ بڑی بڑی خواہشوں کے پیچھے بھاگنے سے پہلے ایک بار سوچیں: اصل ضرورت کیا ہے؟
اگر آپ کے ساتھ کوئی جِن ملے، تو آپ کیا خواہش کریں گے؟ کمنٹ میں بتائیں۔