عمومی

بیگم کا یوٹیوب نسخہ – جب پیاز نے سب کچھ کر دیا

بیگم کا یوٹیوب نسخہ

   

بیگم نے رات کو ٹھیک گیارہ بجے موبائل رکھا اور آواز دی: “جمشید! آ جاؤ، آج ایک کام کرنا ہے تمہارے ساتھ۔”

جمشید نے اخبار سے نظریں اٹھائیں۔ پروین جب اِس لہجے میں بات کرتی تھی، تو نقصان یقینی ہوتا تھا۔

“کیا ہوا بھئی؟”

“بیٹھو یہاں۔”

پروین نے چارپائی پر تولیہ بچھا دیا۔ سامنے میز پر تین کٹوریاں رکھی تھیں — ایک میں سفید لیس دار کچھ، ایک میں سبز لئی، اور ایک میں زرد گاڑھا مواد۔ کمرے میں ایک تیز، تندرست بدبو بھر گئی تھی — جیسے کسی نے پورا بازار اندر اٹھا لایا ہو۔

“یہ کیا ہے؟”

“نسخہ ہے۔ YouTube پر دیکھا — بال لمبے اور گھنے کرتا ہے۔ پیاز کا رس، مہندی، اور دہی ملانا ہے۔ تمہارے اوپر سے بال کم ہو رہے ہیں ناں، اس لیے——”

“میرے بال بالکل ٹھیک ہیں!”

“جمشید میاں۔” پروین نے ایک لمحہ رکتے ہوئے کہا، “آئینہ کبھی کبھار دیکھا کرو۔”

وہ رات جو ناک نے کبھی نہ بھولی

   

جمشید نے احتجاج کیا۔ وضاحتیں دیں۔ طبی دلائل دیے۔

پروین نے تینوں کٹوریاں اٹھا کر ملانا شروع کر دیں۔

“اس channel کے ۴۵ لاکھ subscribers ہیں، جمشید۔ ۴۵ لاکھ۔ یہ سب کیا جھوٹ دیکھ رہے ہیں؟”

پندرہ منٹ بعد جمشید باتھ روم کی پرانی لکڑی کی موڑھی پر بیٹھا تھا، سر جھکائے۔ اور پروین وہ خطرناک آمیزہ ہاتھوں پر لے کر اوپر سے شروع ہو گئی۔

پہلی ٹھنڈی مٹھی جب سر پر پڑی — جمشید کی آنکھیں بند ہو گئیں۔

“اللہ! یہ کیا بدبو ہے؟”

   

“پیاز ہے۔ شکر کرو اچھا نسخہ ملا، ورنہ لوگ لہسن بھی لگاتے ہیں۔”

“پروین، میں کل دفتر جانا ہے——”

“یہ رات کو لگائیں گے، صبح دھو لینا۔ تین گھنٹے کم از کم رکھنا ہے۔”

تین گھنٹے۔

پروین نے سر پر شاور کیپ چڑھا دی، اوپر سے پرانا سرخ تولیہ لپیٹ دیا۔ جمشید کچھ کا کچھ لگ رہا تھا — آدھا مریض، آدھا کوئی عجیب YouTube video۔

بیچ رات بچی اٹھ گئی۔

“ابو… آپ کے سر سے کیوں بدبو آ رہی ہے؟”

جمشید نے آنکھیں کھولیں: “سو جاؤ، بیٹا۔”

“لیکن ابو——”

“سو جاؤ۔”

جمشید صاحب، سب ٹھیک ہے ناں؟

صبح جمشید نے خوب رگڑ رگڑ کر سر دھویا۔ شیمپو ایک بار۔ دو بار۔ تیسری بار۔ نل بند کیا۔ تولیہ سر پر رکھا۔

اور پھر ناک نے وہی بتایا جو دل نہیں مانتا تھا۔

بینک پہنچا تو نادیم نے ایک قدم پیچھے ہو کر پوچھا:

 

“جمشید بھائی، کل رات بریانی بنی تھی گھر میں؟”

“نہیں… کیوں؟”

“بس ایسے لگ رہا ہے کہ باورچی خانے کی طرف سے آئے ہو۔”

جمشید نے کچھ نہ کہا۔

دوپہر کو کیبن میں بیٹھا تھا کہ صفیہ آپا فائل لے کر آئیں۔ رکیں۔ ایک عجیب نظر سے دیکھا۔

“جمشید صاحب… سب ٹھیک ہے ناں؟”

“جی بالکل۔”

وہ چلی گئیں۔

ظہر کی نماز کے بعد جمشید نے خاموشی سے واش روم میں موبائل اٹھایا اور پروین کو فون کیا۔

“پروین، یہ نسخہ کتنے دن رہتا ہے؟”

 

“کیا مطلب؟”

“مطلب — بدبو کتنے دن میں جاتی ہے؟”

ایک لمحے کی خاموشی۔

“جمشید… comments میں لکھا تھا کہ پہلے ۲-۳ دھونے پر ذرا سی خوشبو رہتی ہے——”

“پروین۔”

“ہاں؟”

“یہ خوشبو نہیں ہے۔”

لائن پر خاموشی۔ پھر پروین نے دبی دبی آواز میں کہا: “تو کیا؟”

“یہ وہ بدبو ہے جو لوگ پوری عمر نہیں بھولتے۔”

اس رات جمشید گھر آیا تو پروین نے آلو گوشت بنا کر رکھا تھا — اُبلتی ہانڈی میں الائچی اور دار چینی کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی تھی۔ ساتھ میں ایک چھوٹی سی مسکراہٹ بھی۔

“کتنے لوگوں نے پوچھا؟” پروین نے پلیٹ آگے کرتے ہوئے کہا۔

“تین۔”

“اچھا۔” ایک اور مسکراہٹ۔ “تو اگلی بار لہسن بھی ملا لیں گے — اس سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔”

“پروین۔”

“ہاں؟”

“وہ channel بند کر دو۔”

پروین ہنسنے لگی — وہ ہنسی جو پھر روکے نہیں رکتی، جو پڑوس تک سنائی دیتی ہے۔ اور پھر جمشید بھی ہنسنے لگا، چاہے نہ چاہتے ہوئے۔

اگلے دن جمشید نے ڈاکٹر سے appointment بک کروائی — بالوں کے لیے۔

کم از کم وہاں پیاز نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر صاحب کا کمرہ

ڈاکٹر اکرام صاحب کا کلینک ساف، ڹائیں تھیں۔ ایر کنڈیشنر چل رہا تھا۔ انتظار گاہ میں بیٹھتے جمشید کو تھوڑی سکون آی۔

ڈاکٹر صاحب نے سر دیکھا، پھر ایک لمبی خاموشی۔

“آپ نے یہ لگایا ہے کیا؟”

“پیاز کا رس، مہندی اور دہی۔ YouTube نسخہ۔”

“امیجھ کا وہ ڈاکٹر جس نے یہ بتایا؟”

“جی، پیاز کی کھیتی کہیں۔”

ڈاکٹر نے قلم رکھا۔ “بھائی صاحب، پیاز کا رس بالوں کے لیے بڹلکل مفید نہیں ہے۔ اس سے بال نہیں آتے۔ البتہ خارش ضرور ہوتی ہے۔”

“یعنی… پیاز کام نہیں آیا؟”

“بڹلکل نہیں۔” ڈاکٹر نے آہستہ سے مسکرایا۔

جمشید کو گھر آتے ہی پروین سمجھ گئییں۔ “یہ تم نے ویڈیو کیس کک دیکھی تھی، ہے ناں؟”

جمشید خاموش رہا۔ اس سوال کا جواب سوچ سمجھ کر دینا ممکن نہیں تھا۔

اگلی مہم — بیگم کا نیا ویڈیو

تین دن بعد جمشید کے بال جوں کے تیں کم ہوئے تھے، پروین نے موبائل اٹھایا۔

“جمشید! YouTube پر ایک اور نسخہ دیکھا۔ البی کا دودھ اور زیتون کا تیل۔ پہلے سے زیادہ اثر، یہ channel کے پچھتر لاکھ subscribers ہیں۔”

جمشید نے اپنی سیٹ سے اٹھایا۔ چونکین سے کھڑھا ہوا۔ پھر آہستہ سے بولا: “پروین۔”

“ہاں؟”

“وہ channel بند کر دو۔”

پروین ہنسنے لگی — وہ ہنسی جو اس بار بھی پڑوس تک سنائی دی۔

اخلاقی سبق

گھر میں YouTube expert ہونا بہت اچھی بات ہے۔ لیکن کیمیائی نسخہ آزمانے سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ سوال یہ ہے: کیا ڈاکٹر بھی ایسا ہی کہتے ہیں؟ اگر ہاں، تو پیاز کا رس کیا کرےگا آپکے بالوں کا — چاہے کچھ بھی نہیں۔ جو نسخہ تین گھنٹے بعد بہت تکلیف دیے، دو بار سوچ لیں۔

اگر آپ کے گھر میں بھی کوئی YouTube expert ہے جو ایسے نسخے آزماتا ہے — تو کمنٹ میں بتائیں، آپ کے ساتھ کیا ہوا؟ 😄


TaleMingle Team

TaleMingle ایک اردو ادبی پلیٹ فارم ہے جہاں ہم آپ کے لیے دل کو چھو لینے والی، مزاحیہ اور سبق آموز کہانیاں لاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں