ابو جی کا فیس بک اکاؤنٹ
میں نے صبح سات بجے آنکھ کھولی تو فون پر نوٹیفکیشن تھی: “Riaz Ahmed نے نادیہ کی تصویر پر تبصرہ کیا: بہت خوب! اللہ ہمیشہ خوش رکھے — پتلی ہو گئی ہو۔ شادی میں ملیں گے انشاءاللہ۔ 😊😊😊”
نادیہ ہماری چھوٹی پھوپھی کی بیٹی تھی — اور یہ Riaz Ahmed کوئی اجنبی نہیں، میرے ابو جی تھے۔
اکاؤنٹ بنے ابھی تین دن ہوئے تھے۔
پاسپورٹ فوٹو والی پروفائل پکچر
شروعات ہوئی پچھلے جمعے کو، جب ابو کے دوست شکیل انکل اپنا نیا فون لے کر آئے۔ دروازے پر قدم رکھتے ہی بولے: “ریاض بھائی، فیس بک پر ہو؟ سارے پرانے یار مل جاتے ہیں!”
ابو نے پانی کا گھونٹ بھرا، ذرا سوچا، اور پھر وہ جملہ کہا جس نے آنے والی تمام مصیبتوں کا دروازہ کھولا: “بنا دو۔”
پروفائل پکچر کے لیے ابو نے پرانی الماری کا نیچے والا دراز کھولا اور ۱۹۹۵ء کی پاسپورٹ سائز فوٹو نکالی — جس میں بال کالے تھے، مونچھیں گھنی تھیں، اور چہرے پر وہ تاثر جیسے دھوپ میں کھڑے کر کے کوئی ترش چیز کھلا دی ہو۔
میں نے احتجاج کیا: “ابو، کوئی نئی فوٹو ڈالیں نا—”
“یہ بہت اچھی ہے۔ اس میں جوان لگتا ہوں۔”
بحث ختم۔
اگلے دو دنوں میں ابو نے تمام رشتے داروں کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی، خود سے پندرہ سال بڑے تایا جی کو “Follow” کر لیا، اور ان کی ۲۰۱۸ء والی عمرہ فوٹو پر لکھا: “ماشاءاللہ بھائی صاحب! اللہ قبول کرے۔ ہم بھی جائیں گے انشاءاللہ، دعا میں یاد رکھیں — ریاض، کوٹ لکھپت والے۔”
تایا جی نے فوری فون کیا: “ریاض! فیس بک پر آ گئے ہو؟”
وہ فرینڈ ریکوئسٹ — جس نے گھر ہلا دیا
تیسرے دن صبح، امّی چائے کی ٹرے لے کر کمرے میں آئیں۔ ابو فون دیکھتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔
“کیا ہوا؟”
“ارے کچھ نہیں — ایک پرانی جان پہچان والی نے ریکوئسٹ بھیجی ہے۔ ثنا اختر۔ کالج میں ساتھ پڑھتی تھی۔ بہت برسوں کی بات ہے—”
ٹرے ابو کے ہاتھ میں آتے آتے رک گئی۔ “ثنا اختر؟”
“ہاں—”
امّی نے چائے کی پیالی میز پر رکھی۔ بہت آہستہ سے۔ اس انداز میں جو بتاتا ہے کہ آنے والا طوفان خاموش ہوگا — مگر لمبا چلے گا۔
“قبول کی؟”
“ابھی نہیں—”
“خبردار۔”
ابو نے بغیر بحث کیے فوری ریکوئسٹ ڈیلیٹ کی۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ ثنا اختر دراصل ابو کی اسی کالج فیلو کی بیٹی تھی — لیکن یہ وضاحت امّی نے سننے سے انکار کر دیا۔
شام کی چائے اس دن خاموشی میں گزری — اور ابو نے دو گھونٹ پی کر پیالی رکھ دی۔
بعض لڑائیاں زبان سے نہیں، چائے کی مقدار سے لڑی جاتی ہیں۔
گڈ مارننگ والا سٹیٹس — تاریخ کا سیاہ باب
چوتھے دن فجر کے بعد، ابو نے اپنی پہلی “Good Morning Post” لگانے کا فیصلہ کیا۔
ٹائپنگ آہستہ تھی، نیت نیک تھی — مگر جو ہوا وہ تاریخ میں لکھے جانے کے قابل ہے۔
سٹیٹس تھا: “سب کو صبح بخیر 🌷 آج بینک جانا ہے ATM سے پیسے نکالنے ہیں۔ پن نمبر یاد نہیں آ رہا تھا — پھر یاد آیا: ۴۴۷۲۔ اللہ کا شکر ہے 😊”
میں نے صبح سات بجے فون اٹھایا تو واٹس ایپ پر پہلے سے اکیس میسج تھے۔
پھوپھی: “بلال! ابو کا نمبر بند ہے — فیس بک پر ATM پن ڈال دیا!!!” چاچی: “ریاض بھائی کو فوری بتاؤ!” نادیہ: “یہ سچ میں ابو نے کیا؟ 😂😂😂”
میں نے بھاگ کر ابو کا فون لیا، سٹیٹس ڈیلیٹ کیا — لیکن تب تک سینتالیس لوگ دیکھ چکے تھے۔ جن میں سے کم از کم تین نے اسکرین شاٹ بھی لے لیا تھا۔
شام کو ابو کا ATM پن تبدیل ہوا۔ اور فیس بک اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ۔
البتہ وہ پاسپورٹ والی پروفائل پکچر ابو نے فون میں محفوظ کر لی۔ “یاد رہے — ۱۹۹۵ء میں کیسا لگتا تھا۔”
امّی نے آنکھیں گھمائیں۔ میں نے ٹھنڈی چائے کا آخری گھونٹ بھرا — اور خاموش رہا۔
بعض لڑائیاں لڑنے کی نہیں ہوتیں۔
ابو کی نئی مہم — واٹس ایپ گروپ
جمعے کو شکیل انکل دوبارہ آئے۔ اس بار فون میں نہیں، واٹس ایپ گروپ کی داستان لائے۔ “ریاض بھائی، پرانے ساتھیوں کا گروپ ہے — 1990 سے 1998 تک کی یادیں۔ سنیور بھی ہیں۔ اپنے والد کو add کرو۔”
“یہ انہیں کیسے ملیں گے؟” ابو نے میک چشمے سے اوپر دیکھا۔
شکیل انکل نے جہے لنک بہیجی، ابو کو add کروایا۔ کچھ گھنٹے بعد ابو کا پہلا میسیج گروپ میں آیا:
“السلام وعلیکم۔ ریاض ہکمت والے۔ آج کل کے بچے چائے کے بجائے کولڈ ڈرنک پیتے ہیں۔ یہی ۱۹۹۵ء والیں سوچیں تھیں۔ ہم لوگ کیسی ہوٹل میں ایک بار ملیں گے۔ یاد ہے شکیل، تم نے چائے میں چینی شکر ڈالا تھا۔”
گروپ میں خاموشی چھا گئی۔ پھر شکیل انکل نے لکھا: “یار، ریاض کو Admin بنا دو۔”
میں نے آہستہ سے پوچھا: “ابو، Admin کیا ہوتا ہے؟”
“گروپ کا سردار۔ وہ جو سبکو جوڑ تا ہے۔ یا نکالتا ہے۔”
ابو نے کچھ سوچا۔ “ڈھیک ہے۔ لیکن سردار فرینڈ بھی بناؤ۔”
اگلے دن ابو نے گروپ میں ۲۰ لوگوں کو add کیا۔ کچھ نہیں پوچھا۔ بس یکطرفہ add کر دیا۔
ابو کی پہلی برواڈکاسٹ
اگلے صبح فجر کے فوراً بعد ابو نے گروپ میں میسیج بھیجا:
“سبحاناللہ۔ سب سے پہلے فجر کی نماز پڑھنی۔ دفتر جانے سے پہلے ناشتہ ضرور کریں۔ اللہ آپ سب کو خوش رکھے۔ باقی فیس بک والے زیادہ وقت خراب کرتے ہیں۔ پہلے کام کرو، پھر گروپ دیکھو۔”
گروپ میں سناٹہ چھا گیا۔
میں نے سوچا: ابو کو سوشل میڈیا دییں — چھ مہینے بعد۔
شکیل انکل نے لکھا: “ریاض بھائی، آپ کے والد تو ہم سب سے بہتر استاد ہیں۔” ساتھ میں پانچ دلوں کا اسٹیکر۔
اخلاقی سبق
فیس بک ایک آئینہ ہے۔ ہم اس میں وہی دکھاتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ ابو نے اس سے سیکھا: زندگی ککھہنیوں سے بھری ہے، اور یادیں کیسی فوٹو کی محتاج نہیں ہوتیں۔ چائے کی مقدار سے لڑی جانے والی بات وہ ہے جو ہمیشہ سینے سے لگتی ہے۔
اگر آپ کے گھر میں بھی کوئی “نیا فیس بک یوزر” ہے تو کمنٹ میں بتائیں — کیا ہوا؟ 😄