آپا کی منگنی اور ٹک ٹاک کا چکر
جس دن لڑکے والوں نے ہاں کی، امّی نے چائے کی کیتلی تیسری بار چڑھائی۔
خوشی میں۔
گھر میں گلاب جامن کی خوشبو پھیلی تھی، صوفے پر نئی سفید چادر بچھی تھی، اور آپا — یعنی ہماری زینب آپا — کمرے میں بند تھیں۔ امّی پچھلے آدھے گھنٹے سے دروازے کے پیچھے کھڑی سمجھا رہی تھیں:
“بیٹا، دوپٹہ ڈھنگ سے رکھنا۔ ہاتھ جوڑے بیٹھی رہنا۔ اور سر اٹھا کر مت دیکھنا۔”
آپا نے دروازے سے آواز دی:
“امّی، یہ ملاقات ہے یا پریڈ؟”
امّی نے آنکھیں بند کیں، استغفراللہ پڑھا، اور چلی گئیں۔
میں نے ہنسی روکی۔ مشکل سے۔
لڑکے والے آئے۔ چائے پی۔ گلاب جامن کھائے۔ خوب مسکرائے۔ “ماشاءاللہ، بہت اچھا گھر ہے” کہا — اور جاتے جاتے “انشاءاللہ خبر کریں گے” کہا۔
امّی نے دروازہ بند کیا اور خالہ کو فون ملایا — جو آدھے گھنٹے پہلے ہی آ چکی تھیں اور صوفے کے پیچھے سے سن رہی تھیں:
“کیسا لگا؟”
“بہت اچھا۔ اللہ کرے پکا ہو جائے۔”
وہ فون — جس نے سب کچھ بدل دیا
اگلے دن دوپہر کو فون آیا۔
“بہن جی، ہمارے بیٹے کی نانی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔ ذرا فی الحال رکنا پڑے گا۔”
امّی نے فون رکھا۔ ایک لمبی خاموشی۔
پھر خالہ کا فون بجا — انہوں نے خود کال کی تھی۔
“بہن، میں نے سن لیا ہے۔ پڑوس میں پتہ چل گیا ہے۔ لڑکے کی بھابھی نے TikTok پر زینب کی پرانی ویڈیوز ڈھونڈ لی ہیں۔”
کمرے میں جیسے وقت رک گیا۔
امّی نے میری طرف دیکھا۔
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھنے کی کوشش کی۔
تین سال پہلے کی بات تھی۔ کورونا کا زمانہ تھا، گھر بند تھا، موبائل کھلا تھا۔ آپا نے TikTok ڈاؤن لوڈ کیا تھا — “بس دیکھنے کے لیے”۔
پھر ایک ویڈیو بنائی۔ لپ سنک، کوئی بھارتی گانا۔ پھر ایک اور۔ پھر ایک جس میں پیر بھی تھوڑا ہلا۔
چالیس ہزار فالوورز ہو گئے تھے۔
جب گھر میں پتہ چلا، آپا نے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
سمجھا — معاملہ ختم۔
معاملہ ختم نہیں ہوا تھا۔ انٹرنیٹ پر کوئی ری پوسٹ کر چکا تھا۔ لڑکے کی بھابھی نے ڈھونڈ لیا۔ بیس سیکنڈ کی ایک ویڈیو — جس میں آپا نے دوپٹہ ہٹایا، بال کھلے کیے، اور کیمرے کو ونک کیا تھا۔
گھر میں قیامت
“ٹک ٹاک!”
امّی کی آواز اتنی اونچی تھی کہ اوپر والے فلیٹ کا کتا بھونکنے لگا۔
“امّی، وہ تین سال پہلے کی بات ہے—”
“تین سال! تین سال میں انٹرنیٹ سے کچھ مٹتا ہے؟”
آپا خاموش ہو گئیں۔
ابو صوفے پر بیٹھے تھے۔ ٹی وی آف تھا۔ کپ میں چائے ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ انہوں نے پوچھا: “یہ ٹک ٹاک ہے کیا؟”
خالہ کمرے میں داخل ہوئیں — بغیر دستک دیے، جیسے وہ ہمیشہ کرتی ہیں۔ انہوں نے دوپٹہ سنبھالا اور آسمان کی طرف دیکھا:
“میں تو پہلے ہی کہتی تھی۔ لڑکیوں کو موبائل نہیں دینا چاہیے۔ پر کون سنتا ہے مجھے!”
میں نے خالہ کے ہاتھ کی طرف دیکھا — ان کے موبائل پر اس وقت ریلز چل رہی تھیں۔
میں نے کچھ نہیں کہا۔
آپا کمرے میں چلی گئیں۔ میں چائے کا کپ لے کر گیا۔
دروازے کے باہر سے آواز آئی۔
آپا ہنس رہی تھیں۔
اکیلے میں، دبا دبا کر۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا:
“کیا ہوا؟”
“کچھ نہیں۔ بس سوچ رہی تھی — چالیس ہزار فالوورز تھے میرے۔ اور یہ ایک بھابھی نے ہی اتنا ڈرامہ کر دیا۔ باقی انتیس ہزار نو سو ننانوں نے تو کچھ نہیں کہا۔”
میں ہنس دیا۔
آپا بھی ہنسیں۔
تین ہفتے بعد دوسرا رشتہ آیا۔
اس بار آپا نے خود پہلے لڑکے کا سوشل میڈیا چیک کیا۔
لڑکے کا اپنا TikTok تھا۔
آپا نے امّی کو نہیں بتایا۔
رشتہ پکا ہو گیا۔
آج بھی گھر میں کوئی TikTok کا نام لے تو امّی کے ہاتھ کا کڑچھل خود بخود اٹھ جاتا ہے۔
شادی کے بعد
لاہور سے بیٹھنے سے پہلے آپا نے ایک بار مجھسے اکیلے میں ملا۔ وہی گہری آنکھیں، وہی مسکراہٹ۔
“تمہیں معلوم ہے اس سب سے سبسے جلدی کون سمجھ گیا؟” آپا نے پوچھا۔
“کائی؟”
“امّی۔” اس نے ہلکی ہنسی۔ “جب ڈونگی بجی، انہوں نے سبسے پہلے خالہ کو فون کیا۔ کہا — بہن، یہ ویڈیو والی بچی یا TikToker؟””
میں چپ رہا۔
“امّی نے کیا جواب دیا؟”
“کہا: “وہی چیز جو تم سوچ رہی ہو، ایسی چیز ہے۔”” آپا نے ایک اور ہنسی۔ “اور بہن، اسی میں رہنا ہے۔”
امّی کی TikTok ڈکشنری
شادی کے بعد سے امّی کا موقف واضح ہو گیا۔ ان کے نزدیک ہر وہ شے جس میں کوئی ڈھول بجاؤ شور ہو، آدمی اچھائی سے نہیں نظر آتا — وہ TikTok ہے۔ ۴۵ سیکنڈ کا ویڈیو بناؤ۔ دوپٹہ ہٹاؤ۔ لیپ سنک یاستھالو لگاؤ۔ اور مستقبل برباد۔
بیٹھک میں ایک سوال ہمیشہ گھومتا ہے: کیا آپا کو اپنی چالیس ہزار کی خانموں یاد ہیں؟
منے ایک بار پوچھا۔
اس نے یک سیکنڈ مجھے دیکھا۔ پھر ہنس کر کہا: “یاد ہیں۔ بس ساتھ ہی یاد ہیں۔”
اخلاقی سبق — سوشل میڈیا اور رشتوں کا ترازو
آپا کی شادی کو آج دو سال ہو گئے ہیں — اور وہ خوش ہیں۔ مگر جب بھی گھر میں کوئی TikTok کا نام لیتا ہے، امّی کے ہاتھ کا کڑچھل خود بخود اٹھ جاتا ہے۔
اس پوری کہانی میں اصل ہیرو نہ آپا تھیں، نہ رشتہ — اصل ہیرو امّی تھیں۔ جنہوں نے شور مچاتی دنیا میں بھی آپا کو پہچانا۔ چالیس ہزار فالوورز آئے اور چلے گئے — لیکن امّی نے اپنی بچی کو کبھی نہیں بھولا۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے: سوشل میڈیا پر آپ کتنے بھی مشہور ہو جائیں، اصل رشتے وہی ہوتے ہیں جو آپ کو فالوورز کی تعداد سے نہیں، آپ کی اصلیت سے پہچانتے ہیں۔ آپا نے TikTok چھوڑا تو کچھ نہیں گیا — بلکہ بہت کچھ ملا۔
اور آپا کا نیا اصول؟ “رشتہ پکا ہونے کے بعد — سوشل میڈیا چیک کرنا بالکل درست ہے۔”
اگر آپ کے گھر میں بھی کوئی ایسا “ڈیجیٹل فتنہ” ہوا ہو — تو کمنٹ میں بتائیں، آپ اکیلے نہیں ہیں! 😄