✍️ بہن کا وہ آخری خط
لفافہ ابھی بھی وہیں تھا۔
پرانے صندوقچے کے تہہ میں، ایک پیلے ہوئے لفافے میں بند — جیسے دس سال سے میرا انتظار کر رہا ہو۔ جیسے جانتا ہو کہ میں آج ضرور آؤں گا۔
زارہ نے یہ خط مجھے اپنی رخصتی والی رات دیا تھا۔ میں نے لیا، جیب میں ڈالا، اور کبھی نہیں کھولا۔
وہ رات جب میں گھر سے نکلا
ابو کے جانے کے بعد سے میں ہی گھر کا سہارا تھا۔ زارہ کو اسکول چھوڑنا، کالج کی فیس دینا، شادی کے لیے پیسے جمع کرنا — یہ سب میں نے کیا۔ اس لیے جب اس نے تارق کا نام لیا تو مجھے لگا جیسے کسی نے سینے پر گھونسا مارا ہو۔
“کون تارق؟” میں نے امی سے پوچھا تھا۔
“بیٹا، اچھا لڑکا ہے—”
“امی، اچھا لڑکا ہے تو گھر میں کیا ہے اس کے؟ نہ نوکری ڈھنگ کی، نہ باپ کی زمین۔”
زارہ کمرے میں بیٹھی سن رہی تھی۔ وہ کبھی بحث نہیں کرتی تھی — نہ اس دن کی، نہ پہلے کبھی۔ بس آنکھیں جھکا لیتی تھی، جیسے طوفان گزر جانے کا انتظار ہو۔
میں نے منع کیا۔ امی نے سمجھایا۔ چاچی نے منایا۔ پھر وہ سب ہوا جو میں نہیں چاہتا تھا — شادی ہوئی۔
رخصتی کے وقت، جب ڈولی اٹھنے کو تھی، زارہ میرے پاس آئی۔ دوپٹہ اوڑھے، آنکھیں سرخ، ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ جو صرف اسی کی تھی — وہ مسکراہٹ جو رونے اور ہنسنے کے عین درمیان ہوتی ہے۔
اس نے میرے ہاتھ میں خط دیا۔
“بھائی جان، جب دل چاہے پڑھ لینا۔”
میں نے لیا۔ اور دل کبھی نہیں چاہا۔
دس سال کی خاموشی
کراچی میں اپنی زندگی بنا لی۔ شادی کی، بچے ہوئے۔ نوکری اچھی تھی، گھر ٹھیک تھا — باہر سے سب ٹھیک تھا۔
امی کا فون آتا تو اٹھاتا۔ زارہ کا ذکر آتا تو بات موڑ دیتا۔
“کامران، وہ تمہاری بہن ہے—”
“امی، بات کریں کسی اور کی۔”
رات کو کبھی کبھی زارہ کا نمبر دیکھتا — فون میں محفوظ تھا۔ انگوٹھا ایک دو بار اس پر بھی گیا۔ پھر رک جاتا۔ بڑا بھائی غلط نہیں ہوتا — یہ میں نے خود سے کہا تھا، اور دس سال یہی دہراتا رہا۔
تارق ٹھیک نکلا — امی نے بتایا۔ اچھی نوکری کی۔ اپنا گھر بنایا۔ زارہ خوش ہے — یہ بھی امی نے بتایا۔
لیکن میں نے براہِ راست نہیں سنا۔ کیونکہ سننا پڑتا تو ماننا پڑتا — اور ماننا پڑتا تو یہ قبول کرنا پڑتا کہ میں غلط تھا۔
بڑے بھائی معافی نہیں مانگتے — یہ بھی میں نے خود ہی سیکھا تھا۔ یاد نہیں کہاں سے۔
جب فجر کی اذان کے بعد فون بجا
رات کے پچھلے پہر تھا۔ لاہور میں جنوری کی ٹھنڈی رات ہوتی ہے — باہر کوہرا، اندر روئی کی گرم رضائی۔ فون کی اسکرین چمکی — “امی”۔
میں نے اٹھایا۔
“کامران—”
آواز سن کر سمجھ گیا۔ امی اس لہجے میں نہیں بولتی تھیں۔
“زارہ؟”
“بیٹا، آ جاؤ۔”
لاہور پہنچا تو گھر میں عورتوں کی آوازیں تھیں۔ باہر گلی میں چاچا اور پڑوسی بیٹھے تھے — خاموش، جیسے لفظ ختم ہو گئے ہوں۔ صحن میں اگربتی کی دھیمی خوشبو تھی، اور لکڑی کی وہ مہک جو میں کہیں اور نہیں بیان کر سکتا۔
امی میرے گلے لگ گئیں۔
“دو ہفتے سے اسپتال میں تھی، کامران۔ تمہیں بتانا چاہتی تھی — میں نے روکا۔ کہا پہلے ٹھیک ہو جائے، پھر خود بتائے گی۔”
زارہ کا کمرہ خالی تھا۔ بستر پر چادر ابھی سلوٹوں والی تھی، جیسے کوئی ابھی ابھی اٹھا ہو۔ میز پر آدھا گلاس پانی تھا — اسی کا۔
میں وہیں بیٹھ گیا۔
رات کو امی نے صندوقچہ لاکر دیا۔
“یہ تمہاری تھی، کامران۔ زارہ نے مجھے دیا تھا — کہا تھا جب وہ نہ رہے، کامران کو دے دینا۔”
اندر — وہی پیلا لفافہ۔ میرے اپنے ہاتھوں کا رکھا ہوا، دس سال پہلے۔
وہ ایک سطر
میں نے دروازہ بند کیا۔
لفافہ کھولا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔
اندر کاغذ تھا — دو طرف لکھا ہوا، زارہ کی گول، صاف لکھائی میں۔
اس نے لکھا تھا کہ وہ جانتی ہے میں ناراض کیوں تھا۔ اس نے لکھا کہ مجھ پر غصہ نہیں آیا — کبھی نہیں آیا۔ اس نے لکھا کہ تارق اچھا انسان ہے اور وہ ٹھیک رہے گی۔ اس نے لکھا کہ ایک دن میں خود دیکھوں گا۔
پھر آخر میں ایک سطر تھی۔
بس ایک سطر۔
“بھائی جان — خیال رکھنا اپنا۔ میں ٹھیک ہوں۔”
میں نے کاغذ رکھ دیا۔
وہ ٹھیک ہونا چاہتی تھی — میرے لیے۔ آخری خط میں بھی، دنیا سے جاتے ہوئے بھی، زارہ مجھے تسلی دے رہی تھی۔
میں بڑا بھائی تھا — اسے بچانا میرا کام تھا۔
لیکن آخر تک — وہ مجھے بچاتی رہی۔
اسپتال کی صبح
زارہ کو دیکھا تو وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ کمزور لگ رہی تھی — آنکھیں گہری تھیں، چہرہ پیلا۔ لیکن جب میری وہ آئی تو مسکرائی۔
وہی مسکراہٹ۔
“آ گئے آخرکار۔”
میں نے کچھ نہیں کہا۔ بس اس کے پاس بیٹھ گیا۔
“وہ خط پڑھا؟” زارہ نے پوچھا۔
“اب پڑھا۔”
زارہ نے آنکھ فیری۔ باہر سۤید دھوپ میں کیاری چہچہا رہی تھی۔
“تمہیں بتانا چاہتی تھی۔ لیکن تم نے مجھے یہ سیکھنے نہیں دیا کہ بڑا بھائی ہمیشہ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔”
“زارہ—”
“چپچاپ سنو۔” اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا۔ “دس سال لگے۔ لیکن میں جانتی تھی کہ تم آؤگے۔ اسی لیے تو لکھا تھا۔”
میں چپ رہا۔
“اور یہ بھی جانتی تھی کہ جب تم آؤگے، خط نہیں کھولوگے۔” اس نے ہلکی ہنسی۔ “بڑے بھائی ہوتے ہی ایسے ہیں۔”
ایک دن میں دیکھا
زارہ ٹھیک ہوی۔ گھر واپس گئی۔ اور میں اسی کمرے میں بیٹھا رہا، میز پر وہ آدھا گلاس پانی آج بھی وہیں تھا۔ صبح ہوئی تو میں نے اسے پیا۔ جیسے زارہ نے رکھا تھا۔ جیسے وہ جانتی تھی میں آؤں گا۔
اور پیاسا ہوںگا۔
اگر آپ کے گھر میں بھی کوئی ایسا رشتہ ہے جسے ناراضگی نے خاموش کر دیا ہو — تو آج فون اٹھانا دیر نہیں ہے۔ کمنٹ میں بتائیں۔