عمومی

ابا کی پرانی سائیکل

ابا کی پرانی سائیکل میرے بچپن کی سب سے خوبصورت یادوں میں سے ایک ہے۔ یہ صرف ایک سائیکل نہیں تھی بلکہ ہمارے خاندان کی محبت، محنت اور سادگی کی علامت تھی۔

ابّا کی سائیکل — اور وہ تصویر جو میں نے کبھی دیکھی نہ تھی

ابّا کے انتقال کو چالیس دن ہو چکے تھے۔

چہلم گزر گیا تھا، لوگ آ کر جا چکے تھے — لیکن آنگن کے کونے میں ابّا کی پرانی ہیرو سائیکل ابھی بھی وہیں کھڑی تھی۔ دیوار سے ٹیکی ہوئی۔ جیسے کسی کے آنے کا انتظار کر رہی ہو۔

کامران نے ایک پرانا کپڑا اٹھایا اور سائیکل کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا۔

“صاحبزادے، کل ریڑھی والے کو دے دیتے ہیں یہ۔”

امّی آنگن کے دروازے میں کھڑی تھیں، ہاتھ میں چائے کی پیالی۔ آواز میں وہ تھکاوٹ تھی جو آنسوؤں سے بھی زیادہ بھاری ہوتی ہے۔

“نہیں، امّی۔”

کامران نے سر نہیں اٹھایا۔

“یہ نہیں جائے گی۔”

امّی نے کچھ نہیں کہا۔ پیالی چارپائی کے سرہانے رکھی اور اندر چلی گئیں۔

   

زنگ اور خاک کے نیچے — ابّا کی محبت کا حساب

سائیکل پر برسوں کا حساب جمع تھا۔

ہینڈل پر زنگ، ٹائروں کی ہوا نکلی ہوئی، ایک پیڈل ٹیڑھا۔ پچھلی ٹوکری میں ابھی بھی ایک پرانا اخبار پڑا تھا — جنوری کا۔ آخری بار جب ابّا نے بازار سے لا کر رکھا تھا۔

کامران نے کپڑے سے ہینڈل صاف کرنا شروع کیا۔

مشین آئل اور پرانے لوہے کی خوشبو اٹھی — اور اس کے ساتھ بچپن کا ایک پورا منظر۔ صبح سات بجے، ابّا قمیص کا کالر سیدھا کرتے، ٹفن ٹوکری میں رکھتے، اور سائیکل اٹھا لیتے۔ کبھی ناشتہ نہیں کرتے تھے۔ کہتے: “دفتر سے واپسی پر کھاؤں گا۔”

“ابّا، موٹرسائیکل کیوں نہیں لیتے؟” بچپن میں کامران نے ایک بار پوچھا تھا۔

ابّا نے مسکراتے ہوئے کہا تھا: “بھئی، یہ چلتی ہے نا۔ جب یہ چلنی بند ہو جائے، تب سوچیں گے۔”

لیکن یہ سائیکل کبھی نہیں رکی۔

ابّا پہلے رک گئے۔

کامران کا ہاتھ رک گیا۔ آنکھوں کے آگے دھند آ گئی — وہ دھند جو رونے سے پہلے آتی ہے اور انسان کو ہاتھ سے آنکھیں پونچھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اس نے ایک گہری سانس لی اور صفائی جاری رکھی۔

  ابا کی پرانی سائیکل

ابا کی پرانی سائیکل

سیٹ کے نیچے کیا تھا؟

کامران جب سیٹ کے نیچے تک پہنچا تو ہاتھ رک گیا۔

لوہے کے فریم سے چپکی ہوئی ایک چھوٹی سی پلاسٹک کی تھیلی تھی۔ پرانے اسکاچ ٹیپ سے لپٹی ہوئی — ٹیپ اتنی پرانی کہ رنگ بدل گئی تھی، لیکن پکڑ ابھی بھی مضبوط تھی۔

کامران کے ہاتھ کانپے۔

آہستہ آہستہ ٹیپ ہٹائی — جیسے کوئی بہت پرانا راز کھول رہا ہو۔

تھیلی کے اندر ایک تصویر تھی۔

سیاہ و سفید۔ تھوڑی مڑی ہوئی، کناروں سے پیلی پڑ گئی تھی۔

ایک ہسپتال کا باہر کا حصہ — Mayo Hospital Lahore

 

۔

اور اس کے سامنے ابّا کھڑے تھے۔

جوان ابّا — بال سیاہ، آستینیں چڑھی ہوئی، قمیص اجلی، لیکن آنکھیں… آنکھیں کسی عجیب سی روشنی سے بھری ہوئی تھیں۔ ایک ہاتھ سائیکل کے ہینڈل پر تھا۔ دوسرا ہاتھ — سینے پر۔

تصویر کے پیچھے ابّا کی تحریر تھی۔

کامران نے پڑھنا شروع کیا — اور آدھے جملے پر رک گیا۔

“۱۴ فروری ۱۹۹۲ — آج میرا بیٹا دنیا میں آیا۔

اس دن میں سائیکل چلا کر ہسپتال پہنچا تھا۔ رکشے کے پیسے نہیں تھے، لیکن دل میں دنیا کی ساری خوشی تھی۔

میں نے اس وقت یہ تصویر اپنے ہمسائے سے کھنچوائی اور یہاں رکھ دی — سوچا، شاید کبھی مل جائے اسے۔

اسے بتانا کہ اس دن سے یہ سائیکل صرف سائیکل نہیں رہی۔

تمہارا ابّا”

آنگن میں ظہر کی اذان بلند ہوئی۔

پڑوس میں کسی گھر سے بچوں کے کھیلنے کی آوازیں آئیں۔ گلی میں پھیری والے نے کچھ پکارا۔

لیکن کامران کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔

وہ بس اس ایک جملے پر اٹکا تھا: “رکشے کے پیسے نہیں تھے۔”

 

ابا کی پرانی سائیکل

اسے یاد آیا — ابّا نے کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ نہ کبھی کمی کا ذکر کیا، نہ تھکاوٹ کا۔ بس چلتے رہے — اسی سائیکل پر، اسی خاموشی سے، اسی لگن سے۔

“آنکھوں کا تارا تھے وہ مجھے۔” کامران نے بہت آہستہ کہا، جیسے خود سے کہہ رہا ہو۔

“اور میں سمجھ ہی نہ سکا۔”

اس نے سائیکل کی طرف دیکھا۔

ہر خراش — ایک سفر۔ ہر زنگ — ایک صبح جب ابّا بھوکے نکلے تھے۔ ہر ٹیڑھا پیڈل — ایک تھکاوٹ جو انہوں نے کبھی گھر تک نہیں لائی۔

“امّی!”

 

امّی باہر آئیں۔ کامران نے تصویر ان کی طرف بڑھائی — کچھ بولا نہیں۔

امّی نے دیکھا، پیچھے پڑھا — اور پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے جب لفظ ختم ہو جاتے ہیں۔

آنسو۔

“یہ بات تم سے کبھی نہیں کہی انہوں نے۔” امّی کی آواز ٹوٹی ہوئی تھی۔ “اس دن واپس آئے تو بس اتنا بولے — ‘بیٹا آ گیا۔’ اور پھر چُپ ہو گئے۔ بس۔”

کامران نے آنکھیں بند کر لیں۔

     

سائیکل ابھی بھی وہیں کھڑی تھی — دیوار سے ٹیکی ہوئی، تھوڑی جھکی ہوئی۔ لیکن اب وہ بوڑھی اور بیکار نہیں لگ رہی تھی۔

وہ ابّا کی پوری زندگی تھی — ہر خراش میں لکھی ہوئی، ہر زنگ میں محفوظ۔

اور ابّا کا وہ پیغام — جو انہوں نے کبھی کہا نہیں — آج تیس سال بعد اس سائیکل کی سیٹ کے نیچے سے مل گیا تھا۔

کامران نے تصویر واپس تھیلی میں رکھی۔

اور تھیلی پھر وہیں چپکا دی — وہیں جہاں ابّا نے رکھی تھی۔

اخلاقی سبق — محبت کا وزن

ابّا کی سائیکل ان کی پوری زندگی تھی — ہر خراش میں ایک سفر، ہر زنگ میں ایک صبح جب وہ بھوکے نکلے تھے۔ انہوں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ نہ کمی کا ذکر، نہ تھکاوٹ کا۔ بس چلتے رہے — اسی خاموشی سے، اسی لگن سے۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے: ماں باپ اکثر وہ کام خاموشی سے کرتے ہیں جو دنیا کی نظر میں بڑے نہیں لگتے — مگر جن پر ہماری پوری دنیا کھڑی ہوتی ہے۔ وہ رکشے کے پیسے نہیں تھے — لیکن ابّا کے دل میں دنیا کی ساری خوشی تھی۔

کامران کو آج سمجھ آیا: اپنے ماں باپ کو سمجھو — ابھی، جب وہ موجود ہیں۔ بعد میں صرف یادیں باقی رہتی ہیں، اور تھیلیاں جو سیٹ کے نیچے چھپی رہ جاتی ہیں۔

آپ کے گھر میں بھی کوئی ایسی پرانی چیز ہے جو کسی کی یاد سے جڑی ہو؟ کمنٹ میں بتائیں۔

TaleMingle Team

TaleMingle ایک اردو ادبی پلیٹ فارم ہے جہاں ہم آپ کے لیے دل کو چھو لینے والی، مزاحیہ اور سبق آموز کہانیاں لاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں