“Pardesi Baap Ki Kahani” — یہ کہانی ہر اس باپ کی ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے پردیس میں اپنی ساری زندگی قربان کر دیتا ہے۔ یہ کہانی ہے سرور صاحب کی، جنہوں نے تیس سال سعودی عرب میں محنت کی، اور ایک دن وہ گھر آئے — لیکن پایا کہ گھر اب گھر نہیں رہا۔
یہ کہانی پاکستان کے گاؤں سے شروع ہوتی ہے، جہاں 1995 میں ایک تیس سالہ نوجوان نے اپنے دو بچوں کا منہ آخری بار کھل کر دیکھا تھا۔
پہلی جدائی — جب باپ گھر چھوڑتا ہے
سرور احمد ایک عام پاکستانی باپ تھے۔ گاؤں میں چھوٹی سی زمین، اس پر مشکل سے گزارا۔ بیوی فاطمہ، دو بچے — احمد چار سال کا، اور علی صرف ڈیڑھ سال کا۔ بچوں کے کپڑے پھٹے، فاطمہ کے زیورات بک چکے، اور سرور کی آنکھوں میں مستقبل کا اندھیرا۔
ایک دن گاؤں کا تاجر نواز خان آیا۔ کہا: “سرور، سعودی عرب جانے کا موقع ہے۔ ویزا میں دلا دیتا ہوں۔ تنخواہ پاکستانی روپوں میں چالیس ہزار۔ لیکن ایک شرط — تین سال تک واپس نہیں آ سکتے۔”
سرور نے فاطمہ سے بات کی۔ فاطمہ روئی۔ تین سال؟ بچوں کے بغیر؟ لیکن گھر کا پیٹ کیسے بھرے گا؟
سرور نے کہا: “فاطمہ، یہ تین سال ہی نہیں — یہ ہمارے بچوں کا پورا مستقبل ہے۔ احمد بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا۔ علی انجینیئر۔ ہم ان کو وہ زندگی دیں گے جو ہمیں نہیں ملی۔”
روانگی کا دن آیا۔ سرور نے علی کو بازوؤں میں اٹھایا۔ ڈیڑھ سال کا بچہ، جس نے باپ کی شکل بھی صحیح سے نہیں دیکھی تھی۔ علی نے ہنس کر باپ کی داڑھی کھینچی۔
سرور کی آنکھوں سے آنسو نکلے۔ “میرے بچے، تو مجھے پہچانے گا یا نہیں جب میں آؤں گا؟”
احمد نے باپ کا ہاتھ تھاما۔ “ابو، جلدی واپس آنا۔”
سرور نے سر پر ہاتھ پھیرا۔ “بیٹا، تین سال میں۔”
لیکن تین سال — تین سال نہیں رہے۔
سعودی عرب کی محنت اور پانچ سال کا انتظار
سعودی عرب میں سرور نے ایک construction company میں کام شروع کیا۔ روزانہ بارہ گھنٹے کام۔ گرمی میں 50 ڈگری، بھاری اوزار، پسینے میں شرابور۔ شام کو ایک چھوٹے سے کمرے میں چھ مزدور — سب پاکستانی، سب کسی نہ کسی فاطمہ اور بچوں کے باپ۔
پہلی تنخواہ ملی۔ چالیس ہزار روپے۔ سرور نے فوراً پینتیس ہزار گھر بھیج دیے۔ اپنے لیے رکھے صرف پانچ ہزار — کھانا، کرایہ، فون کارڈ۔
پہلے فون پر فاطمہ روئی۔ “احمد آپ کو پوچھتا ہے۔ علی نے ‘ابو’ کہنا سیکھ لیا ہے۔ کب آئیں گے؟”
“تین سال،” سرور نے کہا۔
لیکن تین سال بعد جب جانے کا ارادہ کیا، تو contractor نے کہا: “سرور، ابھی نہ جاؤ۔ ابھی پاکستانی روپیہ گرا ہوا ہے۔ مزید دو سال رہ جاؤ، ڈبل پیسے کماؤ گے۔”
سرور نے فاطمہ کو فون کیا۔ “دو سال اور۔”
فاطمہ خاموش رہی۔ پھر کہا: “ٹھیک ہے۔”
پانچ سال بعد سرور پہلی بار گھر آئے۔ احمد اب نو سال کا تھا۔ علی چھ سال کا۔ سرور نے بازوؤں میں احمد کو لیا۔ احمد نے ہاتھ دور کیا۔ “آپ کون ہیں؟”
سرور کا دل ٹوٹا۔ لیکن ہنس دیے۔ “میں تمہارا ابو۔”
احمد نے ماں کی طرف دیکھا۔ ماں نے کہا: “بیٹا، یہ تمہارے ابو ہیں۔”
احمد نے ادب سے کہا: “السلام علیکم انکل۔”
سرور کا دل اور بھی ٹوٹا۔ “انکل” نہیں، “ابو۔” لیکن کیا کہتا؟ اس نے بچے کو بازوؤں میں نہیں دیکھا تھا پانچ سال سے۔
تیس سال کا چکر — جب Pardesi Baap Ki Kahani جاری رہی
سرور تیس دن کی چھٹی پر آئے۔ تیس دن میں احمد اور علی نے ابو کو پہچاننا شروع کیا۔ پھر روانگی کا دن۔ علی روتا ہوا چپک گیا: “ابو، آپ مت جائیں۔”
سرور نے بچے کو بازوؤں میں لیا۔ ان کا اپنا دل پگھل گیا۔ “بیٹا، ابو پیسے کمانے جا رہا ہے۔ تمہاری اچھی پڑھائی کے لیے۔”
“کب واپس آئیں گے؟”
سرور نے سوچا — کیا کہوں؟ “بیٹا، چار سال۔”
یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہر چار پانچ سال بعد سرور آتے، تیس دن گزارتے، اور پھر چلے جاتے۔
انہوں نے گاؤں میں نیا گھر بنوایا — تین منزلہ۔ زمین خریدی۔ احمد کو میڈیکل کالج بھیجا۔ علی کو engineering۔ دونوں بچوں کی تعلیم پر تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
احمد ڈاکٹر بنا۔ کراچی میں ایک بڑا ہسپتال جوائن کیا۔ شادی کی، دو بچے۔ علی انجینیئر بنا۔ لاہور میں ملٹی نیشنل کمپنی۔ اس کی بھی شادی، ایک بچہ۔
سرور نے سعودی عرب سے دونوں شادیاں کرائیں۔ پیسے بھیجے۔ ولیمہ، جہیز، گھر، گاڑی — سب کا خرچ سرور نے اٹھایا۔
دونوں شادیوں پر سرور آئے، لیکن صرف دس دس دن کے لیے۔
2024 میں سرور ساٹھ سال کے ہو گئے۔ کمپنی نے کہا: “اب آپ ریٹائر ہو سکتے ہیں۔” سرور نے سوچا — اب گھر چلتا ہوں۔ تیس سال کافی ہیں۔
انہوں نے فاطمہ کو فون کیا: “اب میں ہمیشہ کے لیے واپس آ رہا ہوں۔”
فاطمہ کی آواز گھٹ گئی۔ “آ جاؤ۔ احمد اور علی کو بھی بتا دو۔”
گھر واپسی — اور ایک نیا انکشاف
سرور پاکستان واپس آئے۔ تیس سال کی محنت ختم۔ ہاتھوں میں بے شمار سامان، دل میں ایک خواب — اب اپنے بچوں کے ساتھ، پوتے پوتیوں کے ساتھ زندگی گزاروں گا۔
گاؤں پہنچے۔ فاطمہ اب پچپن سال کی، چاندی جیسے بال۔ گلے ملیں۔ بہت دیر تک روئے۔
دو دن بعد احمد کراچی سے آیا۔ پھر تین دن میں چلا گیا۔ علی لاہور سے بالکل نہیں آیا — کہا “ابو، آفس میں بزی ہوں، آپ خود آ جائیں جب موقع ملے۔”
سرور نے سوچا — ٹھیک ہے، میں جاتا ہوں۔ پہلے کراچی، احمد کے پاس۔
کراچی پہنچے۔ احمد کا گھر — تین منزلہ، خوبصورت۔ یہی سرور نے پیسے دیے تھے۔ احمد کی بیوی نائلہ نے دروازہ کھولا۔
“ابا جی، اچانک آ گئے؟” نائلہ نے کہا۔ آواز میں خوشی نہیں، حیرت تھی۔
“بیٹی، احمد ہے گھر میں؟”
“وہ ہسپتال میں ہیں۔ شام کو آئیں گے۔”
سرور بیٹھے۔ نائلہ نے چائے بنائی۔ ساتھ بسکٹ۔ پھر بولی: “ابا جی، آپ کب تک رکیں گے؟”
سرور کا دل ایک منٹ کے لیے رک گیا۔ “بیٹی، میں تو ہمیشہ کے لیے واپس آ گیا ہوں۔ سوچا تھا کہ کچھ مہینے یہاں، کچھ علی کے پاس، کچھ گاؤں میں۔”
نائلہ نے فوراً کچھ نہیں کہا۔ پھر بولی: “ابا جی، ہمارا گھر چھوٹا ہے۔ بچوں کا اسکول، احمد کا کام۔ آپ گاؤں میں زیادہ آرام سے رہیں گے۔”
سرور نے غور سے دیکھا۔ “بیٹی، میں صرف ایک ہفتے کا کہہ رہا ہوں۔ کوئی مسئلہ ہے؟”
نائلہ نے نظریں جھکا لیں۔ “ابا جی، بات یہ ہے کہ احمد کا کام بہت بزی ہے۔ اور بچوں کا اسکول۔ اور پھر گھر کا روٹین۔ آپ گاؤں سے بہتر گاؤں میں ہی۔۔۔”
سرور خاموش رہے۔ پھر چائے ختم کی۔ کھڑے ہوئے۔ “اچھا بیٹی۔ احمد کو سلام دے دینا۔”
وہ نکل گئے۔ احمد کا انتظار بھی نہیں کیا۔
دوسرا دروازہ — اور دوسرا غم
سرور کراچی سے لاہور آئے۔ علی کا گھر۔ علی کی بیوی شیریں نے دروازہ کھولا۔
“ابا جی! آپ؟” شیریں چونک گئی۔
“بیٹی، علی کہاں ہے؟”
“وہ آفس میں ہیں۔ میں نے انہیں فون کرتی ہوں۔”
شیریں نے علی کو فون کیا۔ علی نے فون اٹھایا۔ آواز سرور تک آ رہی تھی۔
“کیا ہوا شیری؟”
“ابا جی آئے ہیں۔”
“اچھا؟ کب؟”
“ابھی۔”
“اور یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟”
شیریں نے گھبرا کر کہا: “بس ملنے۔”
علی نے کہا: “اچھا، تم ان کو چائے دے دو۔ میں شام کو آؤں گا۔ شام کو کھانا کہاں کھائیں گے؟ ریسٹورنٹ چلیں؟ ابو زیادہ دیر مت رکنا۔ کل آپ کی فلائٹ ہے گاؤں واپس؟”
سرور سن رہے تھے۔ ان کا اپنا بیٹا، اپنی ہی زبان میں، اپنے باپ کے بارے میں ایسے بات کر رہا تھا۔
شیریں نے فون رکھا۔ مسکرانے کی کوشش کی۔ “ابا جی، علی شام کو آئیں گے۔”
سرور نے ہاتھ ہلایا۔ “بیٹی، شکریہ۔ میں واپس جا رہا ہوں۔ علی کو کہنا، باپ آیا تھا۔”
سرور لاہور سے بھی نکل گئے۔ گاؤں واپس آئے۔
فاطمہ نے دیکھا۔ کچھ نہیں پوچھا۔ بس چائے بنائی۔ سرور نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا۔ کچھ نہیں کہا۔ خاموشی سے پی۔
رات کو فاطمہ نے کہا: “میں جانتی ہوں۔ تیس سال میں تم گھر سے دور رہے۔ بچوں کو میں نے اکیلے پالا۔ ان کی نظر میں تم پیسے بھیجنے والے ایک نام تھے۔ باپ نہیں۔”
سرور نے کچھ نہیں کہا۔ فقط آنکھوں سے آنسو نکلے۔
پھر ایک پرانے دوست کی آمد — اور زندگی کا نیا موڑ
ایک ہفتے بعد سرور بیٹھے تھے۔ گھر کی صحن میں۔ شام کا وقت۔ اچانک گاؤں کا چچا اکرم آیا۔ یہ بزرگ تھا، 70 سال کا، گاؤں کا سب سے امیر آدمی۔
“سرور بیٹا، میں تجھ سے ایک بات کرنے آیا ہوں۔”
“کیا بات چچا؟”
“بیٹا، میں نے سنا کہ تو واپس آ گیا ہے۔ تیس سال کی کمائی، شاید پچاس ساٹھ لاکھ ہو گی؟”
سرور نے سر ہلایا۔ “تقریباً ستر لاکھ، چچا۔ بچوں کی شادیاں اور گھر کے بعد۔”
چچا اکرم نے کہا: “بیٹا، گاؤں میں ایک پرائمری اسکول بند ہو گیا ہے۔ بچے دور شہر جاتے ہیں پڑھنے۔ ایک دو میل پیدل۔ اگر تو اپنی کمائی سے یہاں اسکول بنا دے، تو تیرا نام رہے گا۔ اور گاؤں کے سو بچوں کا فائدہ۔”
سرور خاموش رہے۔ پھر دل میں سوچا — تیس سال میں نے اپنے دو بچوں کے لیے قربانی دی۔ آج ان کے دل میں میری جگہ نہیں۔ کیا میں اب ان بچوں کے لیے قربانی نہ دوں جو میری طرح غریب ہیں؟
“چچا، میں سوچ کر بتاؤں گا۔”
رات کو سرور نے فاطمہ سے بات کی۔ فاطمہ نے کہا: “سرور، میں ساتھ ہوں۔ ہمارے بچوں نے تو ہمیں نہیں دیکھا۔ گاؤں کے بچے تو ہمیں دیکھیں گے۔”
اگلی صبح سرور نے فیصلہ کر لیا۔
سرور احمد فاؤنڈیشن — اور ایک خاموش “بدلہ”
سرور نے اپنی ساری ستر لاکھ کی بچت گاؤں کے اسکول کے لیے دے دی۔ نام رکھا — “سرور احمد فاؤنڈیشن”۔
اسکول بنا۔ نئی عمارت، صاف کلاس روم، کتب خانہ، سائنس لیب۔ گاؤں کے سو بچے داخل ہوئے۔
سرور نے ایک شرط رکھی — “ہر بچہ، چاہے غریب ہو یا امیر، یہاں مفت پڑھے گا۔ اور ہر بچہ ایک کام کرے گا — اپنے باپ کا ہاتھ تھامے گا، روزانہ، شکریہ ادا کرے گا۔ یہ اسکول کا قانون ہے۔”
گاؤں کے بزرگ روئے۔ بچے روزانہ گھر جاتے، باپ کا ہاتھ تھامتے، شکریہ کہتے۔ ایک نئی روایت بن گئی۔
دو سال گزرے۔ سرور احمد فاؤنڈیشن مشہور ہو گئی۔ پاکستان کے اخبارات میں خبر آئی۔ ٹی وی پر انٹرویو۔ سرور احمد — وہ پردیسی باپ جس نے اپنی کمائی گاؤں کے بچوں پر لگا دی۔
پھر کراچی میں احمد نے اخبار دیکھا۔ بیوی نائلہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔
“شیر! یہ ابا جی ہیں؟” احمد نے چونک کر کہا۔
نائلہ نے دیکھا۔ “ہاں، یہ ابا جی ہیں! تو نے دیکھا، انہوں نے اسکول بنا دیا!”
احمد نے علی کو فون کیا۔ “علی، اخبار دیکھا؟ ابا جی نے گاؤں میں اسکول بنا دیا۔ ستر لاکھ روپے۔”
علی نے کہا: “ہاں، میں نے بھی پڑھا۔ بھائی، یہ تو ہمارے پیسے تھے۔ ہماری وراثت۔”
احمد نے کہا: “ہاں، اور انہوں نے کبھی ہم سے پوچھا تک نہیں۔ سیدھے دے دیے۔”
دونوں بھائی فوراً گاؤں روانہ ہوئے۔
جب گاؤں پہنچے، تو سرور اسکول میں تھے۔ بچوں کے ساتھ۔ ہنس رہے تھے۔ ایک بچے کے ہاتھ میں قلم تھا، سرور بتا رہے تھے۔
احمد اور علی نے دیکھا — ابا جی کا چہرہ خوش، آنکھوں میں چمک، چہرہ سکون سے بھرا۔ تیس سال کی محنت سے بھی زیادہ خوشی آج۔
احمد نے قریب جا کر کہا: “ابا جی!”
سرور نے دیکھا۔ مسکرائے۔ “آؤ بیٹا۔”
علی نے کہا: “ابا جی، یہ آپ نے کیا کیا؟ یہ پیسے تو ہمارے تھے۔”
سرور نے دونوں بیٹوں کو دیکھا۔ پھر نرمی سے کہا — لیکن ان کی آواز میں ایک ایسی طاقت تھی جو دونوں کو ہلا گئی۔
“بیٹا، یہ پیسے تمہارے نہیں تھے۔ یہ میری زندگی کے پیسے تھے۔ تمہیں میں نے گھر دیا، تعلیم دی، شادیاں کیں، بچوں کی پڑھائی کا خرچ بھی اٹھاتا رہا۔ تم سے میں نے اپنی محنت کا حساب نہیں مانگا۔
لیکن تم نے کیا دیا؟ ایک ہفتہ بھی نہیں۔ نائلہ نے کہا ‘گھر چھوٹا ہے۔’ علی نے کہا ‘مت رکنا۔’ بیٹا، تم نے مجھے باپ نہیں سمجھا۔ تم نے مجھے ATM سمجھا۔
اب میں ان بچوں کا باپ ہوں جو مجھے ‘بابا جی’ بلاتے ہیں اور روزانہ ہاتھ تھامتے ہیں۔ یہ بچے میرے ہیں۔ تم — تم بس میرے رشتہ دار ہو۔”
احمد اور علی کے چہرے پر کوئی رنگ نہیں رہا۔ سرور خاموشی سے کلاس روم میں واپس چلے گئے، ایک نئے بچے کو پڑھانے۔
دونوں بیٹے گاؤں سے واپس گئے — مہنگی گاڑی میں، لیکن دل میں ایسا بوجھ جو مہنگی گاڑی بھی نہ اٹھا سکی۔
واپسی کے راستے میں احمد نے کار روک لی۔ سڑک کنارے۔ آنسو نکل آئے۔ “علی، ہم نے کیا کیا؟”
علی نے کہا: “بھائی، ابا جی نے بدلہ نہیں لیا۔ بدلہ لینا تو آسان تھا۔ انہوں نے ہمیں آئینہ دکھا دیا۔ یہ سب سے بڑی سزا ہے۔”
دونوں بھائی روتے رہے۔ تین گھنٹے۔
پھر احمد نے کار موڑ لی۔ گاؤں واپس۔
جب وہ گاؤں پہنچے، رات ہو چکی تھی۔ سرور آنگن میں بیٹھے تھے، فاطمہ کے ساتھ، چائے پی رہے تھے۔
احمد اور علی پاؤں میں گر پڑے۔ “ابا جی، ہمیں معاف کر دیں۔”
سرور نے دونوں کو اٹھایا۔ گلے لگایا۔ کچھ نہیں کہا۔ بس آنسو۔
فاطمہ نے ہنستے ہوئے کہا: “اب چار کپ چائے بناتی ہوں!”
احمد نے کہا: “ابو، اب میں ہر مہینے گاؤں آؤں گا۔ بچوں کو لاؤں گا۔ آپ کے ساتھ کلاس میں بیٹھوں گا۔”
علی نے کہا: “اور میں اسکول کا maintenance خود سنبھالوں گا۔ free۔ یہ میرا پہلا قرض ہے۔”
سرور نے مسکرا کر کہا: “بیٹا، باپ بدلہ نہیں لیتے۔ بس انتظار کرتے ہیں — کہ ایک دن بچہ اپنی غلطی سمجھ جائے۔ اور تم نے سمجھ لی۔ یہی میری سب سے بڑی کمائی ہے۔”
— ختم —
یہ Pardesi Baap Ki Kahani کیا سکھاتی ہے؟
یہ pardesi baap ki kahani ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت دکھاتی ہے۔ کئی اہم اسباق ہیں:
- پیسے رشتہ نہیں بناتے: بچوں کو پیسے سے زیادہ وقت چاہیے ہوتا ہے
- پردیس کی قربانی سب کو نظر نہیں آتی: جو باپ پردیس میں محنت کرتا ہے، اس کے بچے اکثر اسے سمجھ نہیں پاتے
- والدین کا حق صرف عید پر فون نہیں: ان کے ساتھ وقت گزارنا ضروری ہے
- سب سے بڑا بدلہ خاموشی ہے: سرور صاحب نے غصہ نہیں دکھایا، بس آئینہ دکھا دیا
- محبت میں دوبارہ موقع ہوتا ہے: احساس ہو جائے، تو رشتہ بحال ہو سکتا ہے
- اپنا مقصد پیسہ کمانے سے بڑا ہونا چاہیے: سرور نے گاؤں کے بچوں میں مقصد ڈھونڈ لیا
اپنے والدین کو فون کریں۔ ابھی۔ اگر وہ پاس ہیں، تو ان کا ہاتھ تھامیں۔ اگر دور ہیں، تو ملنے جائیں۔ کیونکہ ایک دن وہ نہیں ہوں گے، اور ان کا ہاتھ تھامنے کا موقع چلا جائے گا۔
مزید جذباتی کہانیاں پڑھیں
اگر آپ کو یہ pardesi baap ki kahani پسند آئی، تو ہماری مزید دل کو چھو لینے والی کہانیاں ضرور پڑھیں۔ ہماری آخری چائے ایک ماں کی محبت کی کہانی ہے، جو آپ کو رلا دے گی۔
کبھی ہنسی بھی ضروری ہے، اس کے لیے مزاحیہ کہانیاں دیکھیں — جیسے کراچی کی بس میں پھنسا ٹیوشن ٹیچر یا فیصل آباد سے لاہور کا سفر۔
اور اگر زندگی میں حوصلے کی ضرورت ہو، تو چائے والے کا خواب اور باقی سبق آموز کہانیاں پڑھیں۔
یہ کہانی آپ کو کیسی لگی؟ کیا آپ نے بھی کسی پردیسی باپ کا ایسا منظر دیکھا ہے؟ نیچے تبصرے میں اپنی کہانی شیئر کریں اور یہ تحریر اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ شاید کسی کا دل بدل جائے، شاید کوئی اپنے ابا جی کو فون کر لے۔