یہ کہانی ہے خالہ سکینہ بیگم کی۔ عمر پچپن سال، قد چھوٹا، دل بڑا، اور سستے سامان کی خوشبو ایسے سونگھ لیتی تھیں جیسے کوئی شکاری ہرن کی خوشبو۔ پورے محلے میں ان کی شہرت تھی کہ “بازار جو بھی جائے، خالہ سکینہ کے بغیر سودا نہیں ہوتا۔” دکاندار ان کا نام سن کر کانوں میں روئی ٹھونس لیتے، کیونکہ خالہ ایک ٹماٹر پر بھی پندرہ منٹ تک بحث کر سکتی تھیں۔
گھر میں خالہ کے علاوہ تین لوگ تھے — شفیق چاچا، ان کے میاں جو ہر بات پر صرف “ہاں بیگم” کہنے میں اپنی نجات سمجھتے تھے۔ بیٹی نشمیہ، چھبیس سال کی، ایک سافٹ ویئر کمپنی میں کام کرنے والی پڑھی لکھی لڑکی۔ اور بیٹا سلمان، بیس سال کا، کالج کا طالب علم جو سارا دن موبائل میں سر دیے رکھتا۔
یہ کہانی اس دن سے شروع ہوتی ہے جب نشمیہ نے ماں کا فون بدلا اور اسمارٹ فون پکڑایا۔ کسی کو نہیں پتا تھا کہ یہ تحفہ، گھر کے بجٹ کے لیے کتنی بڑی آفت بننے والا ہے۔
پہلا اشتہار جس نے قسمت بدل دی
ایک شام خالہ سکینہ صوفے پر بیٹھیں، نیا فون چلانا سیکھ رہی تھیں۔ فیس بک کھلی۔ سکرول کرتے کرتے ایک اشتہار سامنے آیا جس نے ان کی آنکھیں چمکا دیں۔
“شہزادی والا ڈیزائنر سوٹ — صرف 599 روپے میں! اصل قیمت 4500۔ آج آخری دن!”
تصویر میں ایک خوبصورت ماڈل بہترین ڈیزائنر سوٹ پہنے کھڑی تھی۔ خالہ سکینہ نے ایک ہاتھ سینے پر رکھا اور ٹھنڈی سانس بھری۔
“یا اللہ! یہ تو لوٹ سیل ہے! 599 میں 4500 کا سوٹ! نشمیہ بیٹی، ادھر آؤ، یہ کیسے منگواتے ہیں؟”
نشمیہ کچن سے دوڑی آئی، تصویر دیکھی، اور ٹھنڈے لہجے میں بولی، “امی، یہ سب جھوٹ ہوتا ہے۔ اصلی سوٹ 599 میں نہیں آ سکتا۔ کپڑا بھی اتنے کا نہیں آتا۔”
“ارے بیٹی، تم لوگ تو ہر چیز پر شک کرتے ہو۔ تصویر دیکھو، کیسا خوبصورت سوٹ ہے۔ تمہاری چاچی کی بیٹی کی شادی پر پہنوں گی، سب دیکھتے رہ جائیں گے۔”
“امی، خدا کے واسطے، نہ منگوائیں۔”
“بیٹی، ماں کے ساتھ یوں نہیں کرتے۔ تم بس بٹن دبانا سکھا دو۔ آرڈر میں کرتی ہوں۔”
نشمیہ نے سر پکڑ لیا۔ شفیق چاچا نے اخبار سے سر اٹھائے بغیر کہا، “ہاں بیگم۔” اور یوں آرڈر چلا گیا۔
گڑیا کا سوٹ – پہلا حادثہ
چھ دن بعد ڈلیوری والا آیا۔ خالہ سکینہ نے دروازہ ایسے کھولا جیسے کوئی دلہن سج دھج کر باہر آتی ہے۔ ڈبہ ہاتھ میں تھامے سیدھے کمرے میں گئیں اور ٹیپ کھولی۔
اندر سے ایک چھوٹا سا، چمکدار سوٹ نکلا۔ اتنا چھوٹا کہ بمشکل ایک گڑیا کو فٹ آئے۔
“یہ کیا ہے؟” خالہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
نشمیہ نے سوٹ دیکھا اور ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگی۔ “امی، یہ گڑیا کا سوٹ ہے۔ تصویر میں چھوٹے حروف میں لکھا ہوگا ‘ڈول سائز’ — مطلب گڑیا کا ناپ۔”
“کیا مطلب گڑیا کا ناپ؟ میں نے تو اپنا سائز ڈالا تھا!”
“امی، یہ اس کا ٹرک ہے۔ تصویر بڑی دکھاتے ہیں، چھوٹا سامان بھیج دیتے ہیں۔ آپ نے جلدی میں آرڈر دے دیا۔”
خالہ سکینہ نے سوٹ کو ہاتھ میں اٹھایا۔ “بیٹی، شاید دھونے سے پھیل جائے۔”
“امی، اگر اسے دھویا تو یہ کشمیری چائے کا کپ بن جائے گا۔ پھینک دیں۔”
اس رات گھر میں ماتمی فضا تھی۔ خالہ سکینہ کو پانچ سو ننانوے روپے کے ضائع ہونے کا غم تھا۔ مگر اگلی صبح، فیس بک پر ایک نیا اشتہار آیا۔ اور خالہ کا حافظہ — جیسے کسی نے چپکے سے ریسٹ بٹن دبا دیا ہو۔
سونے کی انگوٹھی جو ایک رات میں کالی ہو گئی
دوسرا اشتہار اور بھی شاندار تھا۔
“بائیس کیرٹ امپورٹڈ گولڈ پلیٹڈ انگوٹھی سیٹ — صرف 350 روپے۔ پانچ انگوٹھیاں ایک ساتھ! تحفہ بھی، شاندار بھی۔”
خالہ سکینہ نے دل میں سوچا، “پچھلی بار بدنصیبی تھی۔ اس بار سونا منگواؤں گی۔ سونا تو سونا ہی ہوتا ہے۔”
اس بار انہوں نے کسی کو نہیں بتایا۔ چپ چاپ آرڈر کیا اور انتظار کرنے لگیں۔
چار دن بعد ڈبہ آیا۔ پانچ چمکتی ہوئی انگوٹھیاں نکلیں۔ خالہ سکینہ نے ایک ہاتھ میں تین، دوسرے میں دو ڈالیں اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا۔
اگلی صبح اٹھیں تو ہاتھ پر نظر پڑی۔ ساری انگلیاں سبز۔ انگوٹھیاں سیاہ۔ آئینہ دیکھا، چہرہ بھی فکر مند۔
“یا اللہ! یہ کیا ہوا؟”
دوڑتی ہوئی نشمیہ کے کمرے میں گئیں۔ “بیٹی، انگوٹھیاں کالی ہو گئیں اور انگلیاں سبز۔ کیا میں جن کے زیر اثر تو نہیں؟”
نشمیہ نے ہاتھ دیکھا اور پھر تمام انگوٹھیاں۔ “امی، یہ سونا نہیں۔ یہ پلاسٹک پر چاندی والا رنگ ہے۔ ایک رات میں اتر گیا۔ آپ نے 350 روپے میں سونے کی توقع کی تھی؟”
“تو پھر اس میں ‘گولڈ’ کیوں لکھا تھا؟”
“امی، ‘گولڈ پلیٹڈ’ لکھا تھا۔ مطلب ‘سونے جیسا’۔ مگر اصل سونا نہیں۔ اور یہاں تو وہ بھی نہیں۔ یہ صرف رنگ کیا ہوا پلاسٹک ہے۔”
خالہ سکینہ نے ہاتھ دھوئے۔ سبز رنگ نہ گیا۔ صابن، ڈٹرجنٹ، بال شیمپو، حتیٰ کہ نشمیہ کے فیشل والے کریم سے بھی ملا۔ تین دن تک محلے میں ایسے گھوم رہی تھیں جیسے ہاتھ کسی پینٹر کے ہوں۔
وہ معجزاتی مشین جس نے پلنگ توڑ دیا
خیر، شکست خورہ خالہ سکینہ تین ہفتے تک خاموش رہیں۔ گھر والوں نے سکون کا سانس لیا۔ مگر یہ سکون عارضی تھا۔ ایک دن سہ پہر کو سلمان دروازہ کھول رہا تھا کہ ایک بہت بڑا ڈبہ سامنے رکھا ہوا ملا۔
“یہ کیا ہے امی؟”
“خاموش رہو۔ تمہارا کوئی کام نہیں۔”
“امی، کم از کم بتائیں تو سہی!”
“یہ ایک معجزاتی ورزش مشین ہے۔ اشتہار میں دکھایا تھا کہ ایک ماڈل پانچ منٹ مشین پر کھڑی رہی، اور دس کلو وزن کم ہو گیا۔ صرف 2200 روپے میں۔”
سلمان نے ڈبہ کھولا۔ ایک سستا سا کمپن کرنے والا پلیٹ فارم نکلا، جس کے ساتھ کچھ پلاسٹک کی پٹیاں تھیں۔
خالہ سکینہ نے فرش پر مشین سیٹ کی، پلگ لگایا، اور اس پر چڑھ گئیں۔ مشین نے کانپنا شروع کیا۔ پھر اچانک ایک تیز جھٹکا لگا۔ خالہ گرنے لگیں، توازن کھویا، اور سیدھے اپنے بستر پر گر گئیں۔
پلنگ کی لکڑی نے ایک “ٹرّاااک” کی آواز نکالی اور درمیان سے دو حصے ہو گیا۔
گھر میں ہلچل مچ گئی۔ شفیق چاچا کمرے میں آئے، پلنگ ٹوٹا ہوا، بیوی فرش پر، مشین ابھی بھی کانپ رہی تھی۔
“بیگم، یہ کیا ہوا؟”
خالہ سکینہ نے غصے سے مشین کی طرف اشارہ کیا۔ “یہ — یہ بدمعاش مشین! اس نے میرا پلنگ توڑ دیا!”
شفیق چاچا نے ٹھنڈی سانس بھری اور وہی پرانا جملہ دہرایا، “ہاں بیگم۔”
پلنگ کی مرمت پر چار ہزار خرچ ہوئے۔ مشین کوڑے دان کی نذر ہوئی۔ مگر خالہ سکینہ کا حساب اب بھی واضح تھا — ساڑھے چھ ہزار کے نقصان کے باوجود، اگلا اشتہار ابھی منتظر تھا۔
کوریا کا معجزاتی پھل
اگلا شکار تھا “کوریا کا معجزاتی پھل”۔ اشتہار میں دعویٰ تھا کہ یہ پھل کھانے سے رنگ گورا، بال لمبے، یادداشت تیز، اور دس سال جوانی واپس۔ قیمت — بارہ سو روپے، آدھ کلو۔
چار دن بعد ڈبہ آیا۔ خالہ سکینہ نے دروازے پر ہی ٹیپ کھولی۔ اندر سے کیا نکلا؟ تین چھوٹے چھوٹے سنگترے۔ ہاں جی، عام سنگترے۔ ایسے سنگترے جو محلے کے ٹھیلے پر بیس روپے کے چار آتے تھے۔
خالہ سکینہ نے سنگتروں کو گھور کر دیکھا۔ پھر فون پکڑا۔ پھر اشتہار دوبارہ پڑھا۔ پھر سنگتروں کو دیکھا۔ پھر فون۔ پھر سنگترے۔
چار چکر لگانے کے بعد انہوں نے سنگترا اٹھا کر کاٹا۔ اندر سے عام سنگترے کا گودا اور بیج۔
“یہ تو سنگترا ہے!” خالہ نے چیخ ماری۔
سلمان آیا، سنگترا دیکھا، اور ہنستے ہنستے فرش پر گر پڑا۔ “امی، آپ نے بارہ سو میں تین سنگترے خریدے ہیں! یعنی ایک سنگترا چار سو روپے کا! یہ تو دبئی والے بھی نہیں خریدتے!”
نشمیہ نے ماں کا ہاتھ تھاما۔ “امی، اب بس۔ اب اور نہیں۔”
خالہ سکینہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ “بیٹی، میں نے سوچا تھا گورا ہو جاؤں گی۔”
“امی، آپ پہلے ہی سب سے خوبصورت ہیں۔ اور اگر گورا ہونا ہے تو دکان والی کریم سے ہی بہتر ہے۔ کوریا کا کوئی پھل ایسا نہیں جو راتوں رات معجزہ کرے۔”
ڈلیوری والے سے معرکہ
کہانی کا اگلا موڑ اس وقت آیا جب خالہ سکینہ نے غصے میں ایک نئی شے منگوا لی — “اصل پشاوری چپل، صرف 450 روپے۔” چپل آئی۔ ایک پاؤں کا سائز چھ، دوسرا سائز نو۔
اب تو حد ہو گئی۔ اگلے دن وہی ڈلیوری والا دوبارہ آیا کسی اور آرڈر کے لیے۔ خالہ سکینہ نے دروازہ کھولا، چپل ہاتھ میں اٹھائی، اور سیدھا اس کے سامنے کر دی۔
“یہ کیا ہے؟ ایک پاؤں سائز چھ، دوسرا نو! کیا میں کوئی بطخ ہوں؟”
ڈلیوری والا گھبرا گیا۔ “آنٹی، میں تو بس ڈبہ پہنچاتا ہوں۔ مجھے کیا پتا اندر کیا ہے۔”
“تم لوگ سب چور ہو! میں تمہاری شکایت کروں گی!”
“آنٹی، شکایت ایپ پر کریں، ڈلیوری والے کا اس میں قصور نہیں۔”
“چور! ڈاکو! تم سب اکٹھے ملے ہوئے ہو!”
اس دوران چاچی نسرین (پڑوسن) دروازے سے گزرتے ہوئے یہ سب دیکھ گئیں۔ شام تک پورے محلے میں خبر تھی کہ “خالہ سکینہ نے ایک ڈلیوری والے کو چپل سے مارنے کی کوشش کی۔”
اگلے دن خالہ سکینہ گلی میں نکلیں تو سب ان کی طرف ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی نمائش ہوں۔
نشمیہ بیٹی کا اصل سبق
اس رات نشمیہ ماں کے پاس آئی۔ ہاتھ میں کاغذ پنسل تھی۔
“امی، آج آپ کے ساتھ بیٹھ کر ایک حساب کرتی ہوں۔”
“کیا حساب؟”
“پچھلے دو مہینوں میں آپ نے آن لائن کیا کیا منگوایا اور کتنا خرچ ہوا۔”
دونوں نے بیٹھ کر فہرست بنائی:
- گڑیا کا سوٹ — 599 روپے
- پلاسٹک کی انگوٹھیاں — 350 روپے
- پلنگ توڑ مشین — 2200 روپے
- پلنگ کی مرمت — 4000 روپے
- کوریا کے سنگترے — 1200 روپے
- دو سائز کی چپل — 450 روپے
- ایک “جادوئی کیمرہ” جو چار دن میں خراب ہوا — 1800 روپے
- “اصل ٹرکی صابن” جو ساس کی صابن کی طرح نکلا — 700 روپے
“امی، کل ملا کر گیارہ ہزار تین سو روپے۔ اور بدلے میں آپ کو ملا — کچھ نہیں۔”
خالہ سکینہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ “بیٹی، میں نے سوچا تھا کہ پیسے بچا رہی ہوں۔”
“امی، سستا کبھی کبھی سب سے مہنگا پڑتا ہے۔ آن لائن خریدنا غلط نہیں۔ مگر تین اصول ہیں۔”
نشمیہ نے کاغذ پر تین نکات لکھے:
پہلا اصول: اگر قیمت بہت کم ہے، تو سامان بھی بہت کم ہوگا۔ سونا 350 میں نہیں ملتا۔ ڈیزائنر سوٹ 599 میں نہیں آتا۔ یہ سب جال ہوتے ہیں۔
دوسرا اصول: ہمیشہ اس کمپنی کے بارے میں پہلے پڑھیں۔ کیا لوگوں نے اس سے پہلے کچھ خریدا ہے؟ کیا review اچھے ہیں؟ اگر کمپنی کا نام بھی پہلے کبھی نہ سنا ہو تو دور رہیں۔
تیسرا اصول: صرف اعتماد والی بڑی ویب سائٹس سے خریدیں۔ فیس بک کے اشتہار اکثر دھوکہ ہوتے ہیں۔ اور سب سے اہم — جلدی کبھی نہ کریں۔ “آج آخری دن” والے اشتہار سب سے بڑے دھوکے ہوتے ہیں۔
اصل خزانہ – پرانی ساڑھی کی کہانی
اس رات خالہ سکینہ بستر پر لیٹی، چھت کو گھورتی رہیں۔ پھر اچانک اٹھیں۔ پرانی الماری کھولی۔ اندر سے ایک گہرے سبز رنگ کی پرانی ساڑھی نکالی۔
یہ ساڑھی ان کی شادی پر امی نے دی تھی۔ پچیس سال پرانی۔ کپڑا اب بھی نرم۔ کام اب بھی چمکدار۔ خالہ سکینہ نے ساڑھی کو دیکھا اور رو پڑیں۔
اگلی صبح ناشتے پر سب سے کہا، “بچو، آج میں نے ایک بات سیکھی۔ میں ہر وقت سستا اور نیا تلاش کرتی رہی۔ مگر میرے گھر میں جو پہلے سے قیمتی چیزیں ہیں، انہیں میں نے بھلا دیا تھا۔ امی کی ساڑھی، ساس کے دیے ہوئے زیور، شفیق صاحب کا دیا ہوا پہلا ہار — یہ سب اصل خزانہ ہیں۔”
شفیق چاچا نے پہلی بار اخبار سے سر اٹھایا۔ “بیگم، آپ نے میرا دیا ہار اب تک رکھا ہوا ہے؟”
“ہاں جی۔ تیس سال سے۔”
“اور میں سمجھ رہا تھا آپ نے اسے کب کا کہیں اور دے دیا ہوگا۔”
سب ہنس پڑے۔ سلمان نے ماں کا ہاتھ پکڑا۔ “امی، آج سے ایک نیا اصول۔ کوئی بھی آن لائن آرڈر دینے سے پہلے گھر کی فیملی گروپ میں پوچھنا۔ ہم سب ووٹ کریں گے۔ اگر تین میں سے دو ہاں کہیں، تب ہی آرڈر۔”
خالہ سکینہ نے پہلی بار بغیر بحث کے سر ہلایا۔ “ٹھیک ہے بیٹا۔”
کہانی کا سبق – تین گہری باتیں
یہ کہانی صرف ہنسانے کے لیے نہیں۔ اس میں ہر گھر کے لیے تین گہرے سبق چھپے ہیں۔
پہلا سبق: لالچ ایک ایسا چور ہے جو سب سے پہلے عقل چراتا ہے، پھر جیب۔ جب کوئی چیز بہت سستی لگے تو ٹھہر جاؤ۔ اپنے آپ سے پوچھو — اگر یہ واقعی اتنی اچھی ہے، تو اتنی سستی کیوں؟ ہر سستے کے پیچھے یا کہیں نقصان چھپا ہوتا ہے، یا کوئی دھوکہ۔
دوسرا سبق: جو پاس ہے، اس کی قدر کرو۔ ہم اکثر نئے کے پیچھے بھاگتے ہیں اور پرانے کو بھول جاتے ہیں۔ پرانے دوست، پرانے رشتے، پرانی چیزیں — ان میں ایسی برکت اور یاد ہوتی ہے جو نئی چیزوں میں ہرگز نہیں ہوتی۔ ماں کی پرانی ساڑھی، ابو کی پرانی گھڑی، یا دادی کا چھوڑا ہوا کوئی برتن — یہ صرف چیزیں نہیں، یہ تاریخ ہیں۔
تیسرا سبق: فیصلے جلدی میں نہیں ہوتے۔ ہر اشتہار جو “آج آخری دن” کہتا ہے، وہ جھوٹا ہوتا ہے۔ اچھی چیزیں انتظار کرنے والوں کو ملتی ہیں۔ اور سب سے بڑی بات — جب گھر میں مشورہ کرنے کے لیے بچے، میاں، یا بہنیں موجود ہوں، تو خاموشی سے فیصلے کرنا بے وقوفی ہے۔ ایک رائے ایک نظر ہے، دو رائے دو نظریں، اور پورا گھر مل کر دیکھے تو غلطی کا چانس بہت کم ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حاجی صاحب کی واٹس ایپ یونیورسٹی – ایک ہنسانے والی مگر سبق آموز کہانی
اختتامیہ
تو دوستو، اگلی بار جب آپ کے فون پر کوئی ایسا اشتہار آئے جس میں 90 فیصد رعایت لکھی ہو، یا “صرف آج” کی پیشکش ہو — تو ایک لمحے کو رک جائیں۔ خالہ سکینہ کو یاد کریں۔ ان کا گڑیا والا سوٹ، ان کی سبز انگلیاں، ان کا ٹوٹا ہوا پلنگ، اور ان کے کوریا والے سنگترے۔
پھر اپنے گھر میں نظر دوڑائیں۔ کیا کوئی ایسی چیز ہے جو آپ کے پاس پہلے سے ہے، اور جسے آپ نے ایک عرصے سے نہیں دیکھا؟ شاید وہی آپ کی اصل دولت ہو۔
خالہ سکینہ نے ایک سبق سیکھا جو ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے: “سستے کے پیچھے بھاگنے والا اکثر مہنگا گرتا ہے۔ اور جو پاس ہے، وہی اصل خزانہ ہے۔”
اگر یہ کہانی آپ کو پسند آئی، تو اپنی امی، خالہ، چاچی، یا بہن کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ شاید کسی کے گیارہ ہزار بچ جائیں۔








